تلنگانہ

بھینسہ بلدیہ کے چیرمین تم مولا دتاتری وائس چیئرمین بی بی خدیجہ صدیقہ منتخب

انتخاب کے بعد میونسپل دفتر کے باہر عوام نے “ہندو–مسلم بھائی بھائی” کے نعرے لگائے

آزاد امیدواروں کو بی جے پی، کانگریس کی حمایت

متعلقہ خبریں
نرمل میں 2 روزہ ضلعی سطح کے انسپائر و سائنس ایگزیبیشن کا اختتام
گنگا جمنی ثقافت کا عملی مظاہرہ، میدک میں قومی یکجہتی کی مثال قائم
ریاستوں اور زمینوں کی تقسیم  سے دل  تقسیم نہین ہوتے۔
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں
اندرامّا مہیلا شکتی اسکیم کے تحت اقلیتی خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم

بھینسہ:  ضلع نرمل کے شہر بھینسہ میونسپلٹی میں پیر کے روز منعقدہ بالواسطہ انتخابات میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب عمل میں آیا۔ میونسپل دفتر میں خصوصی عہدے دار  نرمل ( آر ڈی او ) رتنہ کلیانی اور ایڈیشنل کلکٹر کیشور کمار کی نگرانی میں انتخابی عمل پُرامن طور پر مکمل ہوا۔ آزاد امیدوار تم مولا دتاتری بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہوئے جبکہ بی بی خدیجہ صدیقہ وائس چیئرمین منتخب قرار دی گئیں۔

گزشتہ چار دہائیوں سے ایم آئی ایم کے زیر اثر رہنے والی بھینسہ میونسپلٹی میں اس مرتبہ سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوگیا۔ حالیہ نتائج کے مطابق ایم آئی ایم نے 12 نشستیں حاصل کیں، بی جے پی 6، کانگریس 1 اور آزاد امیدواروں نے 7 نشستیں جیتیں۔ بی جے پی اور کانگریس کی حمایت اور ایم ایل اے کے (ایکس آفیشیو) ووٹ سے آزاد کونسلرس نے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے عہدے حاصل کیے۔

انتخاب کے بعد میونسپل دفتر کے باہر عوام نے “ہندو–مسلم بھائی بھائی” کے نعرے لگائے۔ وائس چیئرمین کے شوہر مرزا ادریس بیگ نے کہا کہ بھینسہ اب فرقہ وارانہ سیاست سے اوپر اٹھ کر سماجی ہم آہنگی کی مثال بنے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مکانات کی اجازت کے لیے غیر ضروری فیس کا خاتمہ کیا جائے گا اور شفاف نظام نافذ کیا جائے گا۔