حیدرآباد میں احتجاج کے دوران دو آشا ورکرس کی طبیعت بگڑی، پولیس کارروائی کے خلاف نعرے بازی
آشا ورکرس اپنے دیرینہ مطالبات کی تکمیل کے لیے سندریا وگیان کیندر کے قریب جمع ہوئی تھیں۔ پولیس نے احتجاجی مظاہرین کو حراست میں لینے کی کارروائی شروع کی، جس کے دوران دو آشا ورکرس کی حالت خراب ہوگئی۔
حیدرآباد: اپنے مطالبات کی تکمیل کے لیے سندریا وگیان کیندر کے قریب احتجاج کرنے والی آشا ورکرس میں سے دو کی پولیس کی جانب سے گرفتاری کے دوران طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ گر پڑیں۔
آشا ورکرس اپنے دیرینہ مطالبات کی تکمیل کے لیے سندریا وگیان کیندر کے قریب جمع ہوئی تھیں۔ پولیس نے احتجاجی مظاہرین کو حراست میں لینے کی کارروائی شروع کی، جس کے دوران دو آشا ورکرس کی حالت خراب ہوگئی۔
واقعہ کے بعد دیگر آشا ورکرس نے پولیس کارروائی کے خلاف شدید احتجاج کیا اور "پولیس کا جبر ختم کرو” کے نعرے لگائے۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پولیس ان کے ساتھ مبینہ طور پر سختی اور طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ بعض آشا ورکرس نے دعویٰ کیا کہ پولیس کارروائی کے دوران ان پر حملہ کیا گیا اور ان کی انگلیاں تک زخمی ہوگئیں۔
احتجاج کرنے والی آشا ورکرس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے تمام زیر التوا مطالبات کو فوری طور پر پورا کیا جائے۔ انہوں نے چیف منسٹر کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
آشا ورکرس نے کہا کہ اپنے جائز مطالبات کے لیے احتجاج کرنا ان کا حق ہے اور حکومت کو پولیس طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے ان کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔
مظاہرین نے پولیس پر مبینہ زیادتی بند کرنے اور آشا ورکرس کے مطالبات پر فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعہ میں دونوں آشا ورکرس کی موجودہ طبی حالت اور پولیس کا موقف تاحال واضح نہیں ہوسکا ہے۔