شمالی بھارت

اتر پردیش اقلیتی افراد پر بلااشتعال حملہ،اور قانون کا دوہرا معیار ویڈیو وائرل

یہ دوہرا معیار نہ صرف انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے بلکہ سماج میں نفرت، عدم تحفظ اور بے اعتمادی کو بھی فروغ دیتا ہے

اتر پردیش : اکشے نامی شخص دو پہیہ گاڑی پر جا رہا تھا کہ راستے میں تین مسلم نوجوان پیدل چلتے ہوئے نظر آئے۔ سڑک کشادہ ہونے کے باوجود اکشے نے جان بوجھ کر اپنی گاڑی ان کے پیچھے روک لی اور ہارن بجانا شروع کر دیا۔

عینی شاہدین کے مطابق، کسی بھی اشتعال کے بغیر اکشے نے اچانک تینوں نوجوانوں کو گالیاں دینا اور تھپڑ مارنا شروع کر دیا۔ جب وہ وہاں سے آگے بڑھنے لگے تو اکشے نے ان کا پیچھا کیا اور سرِعام مارپیٹ اور بدسلوکی جاری رکھی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس دوران عوامی مقام پر موجود ہونے کے باوجود کوئی بھی ان کی مدد کے لیے آگے نہیں آیا۔

 واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں اقلیتوں کے خلاف بلاوجہ حملوں کو معمول بنا دیا گیا ہے۔ ملزمان کے بچ نکلنے کے باعث ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور مزید افراد کو اس قسم کے اقدامات کی حوصلہ افزائی مل رہی ہے۔

یہ افسوسناک حقیقت بنتی جا رہی ہے کہ حکومت ایسے واقعات میں مؤثر کارروائی نہیں کرتی، اور اگر کبھی کارروائی ہوتی بھی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اتر پردیش میں قانون دو حصّوں میں بٹ چکا ہے۔

ایک قانون مسلمانوں کے لیے ہے، جہاں معمولی الزام پر بھی سخت سزائیں دی جاتی ہیں، جبکہ دوسرا قانون ہندوؤں کے لیے دکھائی دیتا ہے، جہاں سزا اس انداز میں دی جاتی ہے کہ ملزم جیل سے جلوس کی صورت میں باہر نکلتا ہے گویا اس نے اپنے ملک کے لیے کوئی عظیم کارنامہ انجام دیا ہو۔

یہ دوہرا معیار نہ صرف انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے بلکہ سماج میں نفرت، عدم تحفظ اور بے اعتمادی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ قانون کی نظر میں سب کی برابری ہی جمہوری معاشرے کی اصل پہچان ہوتی ہے۔