ایران کے خلاف آپریشنز میں امریکی ڈرون کشتیاں تعینات، مزید فوجی آپشنز زیر غور
مریکہ نے کسی جاری تنازع میں اس نوعیت کی ڈرون کشتیوں کے استعمال کی باضابطہ تصدیق کی ہے، جو نگرانی کے ساتھ ساتھ خودکش حملوں کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی
واشنگٹن : امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف جاری آپریشنز میں پہلی بار گشت اور نگرانی کے لیے خودکار ڈرون کشتیاں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ خطے میں مزید فوجی اقدامات پر بھی غور جاری ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی جاری تنازع میں اس نوعیت کی ڈرون کشتیوں کے استعمال کی باضابطہ تصدیق کی ہے، جو نگرانی کے ساتھ ساتھ خودکش حملوں کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان کشتیوں کی تعیناتی کا پہلے اعلان نہیں کیا گیا تھا، جبکہ ایران بھی خلیج میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے کم از کم دو بار سمندری ڈرونز استعمال کر چکا ہے۔
پینٹاگان حکام نے انکشاف کیا ہے کہ محکمہ دفاع مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار تک زمینی فوج بھیجنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید فوجی اختیارات فراہم کیے جا سکیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ اقدام امریکی عسکری حکمت عملی کو وسعت دینے کا حصہ ہے۔
امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مشاورت کے باوجود اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو تہران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ویب سائٹ ’ایکسيوس‘ کے مطابق اگر آبنائے ہرمز بند رہی تو امریکی آپریشنز مزید تیز کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق پینٹاگان کے زیر غور آپشنز میں زمینی افواج کا استعمال، ایران کے اندر بڑے پیمانے پر بمباری، اور جزیرہ خارگ پر قبضہ یا محاصرہ بھی شامل ہو سکتا ہے، جبکہ فیصلہ کن کارروائی کے لیے مختلف عسکری منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔
یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہونے والی ہے۔ ایک جانب اسرائیل اور ایران کے درمیان فضائی حملوں کا تبادلہ جاری ہے تو دوسری جانب ایران خلیجی خطے میں امریکی مفادات اور اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بدستور بند کر رکھا ہے، جو عالمی سطح پر ایک نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔