ایران کے یورینیم کو ضبط کرنے کے لیے امریکہ خصوصی فوجی دستہ بھیج سکتا ہے
آپریشن ممکنہ طور پر جنگ کے بعد کے مرحلے میں چلایا جا سکتا ہے، جب امریکہ اور اسرائیل یہ اندازہ لگا لیں کہ ایران کی فوج مؤثر مزاحمت کرنے کی حالت میں نہیں ہے
واشنگٹن : امریکہ اور اسرائیل ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق اس موضوع پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ رپورٹ میں اس معاملے سے واقف چار ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جنگی مقاصد میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا شامل ہے اور اس کے لیے ایران کے پاس موجود تقریباً 450 کلوگرام (تقریباً 992 پاؤنڈ) 60 فی صد افزودہ یورینیم کو قبضے میں لینا اہم سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسا آپریشن ممکنہ طور پر جنگ کے بعد کے مرحلے میں چلایا جا سکتا ہے، جب امریکہ اور اسرائیل یہ اندازہ لگا لیں کہ ایران کی فوج مؤثر مزاحمت کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے گزشتہ سال جون میں ایران کے جوہری ٹھکانوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے جانے کے بعد سے اس یورینیم کے ذخیرے کی صورتحال واضح نہیں ہے۔
اس دوران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ ایران نے اسے بمباری والے مقامات تک رسائی کی اجازت نہیں دی ہے۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ اس کے معائنہ کاروں کو اب تک ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے کسی مربوط پروگرام کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔