امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس کی سینیٹ کی اہم نشستوں پر ابتدائی کامیابی، شمالی کیرولائنا میں ریپبلکن نشست پر قبضہ
سی بی ایس نیوز کے انتخابی تخمینوں کے مطابق، شمالی کیرولینا میں کوپر نے ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کو شکست دی، جبکہ جارجیا میں اوسوف نے ریپبلکن امیدوار مائیک کولنس کو ہرایا۔ نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹک امیدوار کرس پاپاس نے بھی سینیٹ کی نشست جیت کر اپنی پارٹی کا قبضہ برقرار رکھا۔
واشنگٹن: امریکہ میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ کی اہم نشستوں پر ابتدائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
شمالی کیرولینا میں رائے کوپر نے ریپبلکن پارٹی کے قبضے والی نشست جیت لی، جبکہ جارجیا میں جون اوسوف نے دوبارہ کامیابی حاصل کی۔
اس دوران کانگریس پر کنٹرول اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔
سی بی ایس نیوز کے انتخابی تخمینوں کے مطابق، شمالی کیرولینا میں کوپر نے ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کو شکست دی، جبکہ جارجیا میں اوسوف نے ریپبلکن امیدوار مائیک کولنس کو ہرایا۔ نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹک امیدوار کرس پاپاس نے بھی سینیٹ کی نشست جیت کر اپنی پارٹی کا قبضہ برقرار رکھا۔
کوپر کی کامیابی سینیٹ میں دوبارہ اکثریت حاصل کرنے کی ڈیموکریٹس کی کوششوں کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ شمالی کیرولینا کے سابق دو مرتبہ گورنر رہ چکے 69 سالہ کوپر نے ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے سابق چیئرمین مائیکل واٹلی کو شکست دی، جنہیں صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی۔ ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس کے دوبارہ انتخاب نہ لڑنے کے فیصلے کے بعد شمالی کیرولائنا کی نشست ڈیموکریٹس کے لیے حاصل کرنے کے اہم مواقع میں شمار کی جا رہی تھی۔
شمالی کیرولینا میں 2008 کے بعد سے کسی ڈیموکریٹک امیدوار نے سینیٹ کا انتخاب نہیں جیتا تھا۔ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے اس ریاست میں تین فیصد ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے باعث یہ مقابلہ دونوں جماعتوں کے لیے خاص اہمیت اختیار کرگیا تھا۔
کوپر نے اپنی انتخابی مہم میں معاشی مسائل اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کو بنیادی موضوع بنایا اور ”اشیا کی قیمتیں کم کرو” کا نعرہ دیا۔
دوسری جانب واٹلی نے ٹرمپ کے ایجنڈے پر عمل درآمد اور قدامت پسند اقدار کے فروغ کو اپنی مہم کا محور بنایا۔ ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ کی حمایت اور پٹرول کی بڑھتی قیمتیں بھی انتخابی مہم کے اہم موضوعات رہے۔ ٹرمپ سے واٹلی کی قریبی وابستگی کو بھی ان کے لیے ممکنہ نقصان دہ پہلو قرار دیا گیا۔
جارجیا میں اوسوف کی کامیابی سے اس سیاسی طور پر اہم ریاست میں ڈیموکریٹس کا اثر و رسوخ مزید مضبوط ہوا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ابھرتے ہوئے رہنما اوسوف نے اپنی انتخابی مہم میں روزمرہ اخراجات میں اضافے کو بنیادی مسئلہ بنایا اور کولنس کو ان کے بقول ”ناکام صدر” کا حامی قرار دیا۔ انہوں نے ایوان نمائندگان کے موجودہ رکن کولنس کو ٹرمپ کے محصولات کی حمایت کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جنہیں ڈیموکریٹس نے مہنگائی میں اضافے کی وجہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب کولنس نے روزمرہ اخراجات میں اضافے کا ذمہ دار سابق صدر جو بائیڈن کو ٹھہرایا اور ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ کی حمایت کا دفاع کیا۔ ریپبلکن پارٹی کو امید تھی کہ جارجیا میں مقابلہ سخت ہوگا، لیکن اطلاعات کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں میں اوسوف کی واضح برتری سامنے آنے کے بعد پارٹی نے اپنے انتخابی وسائل سینیٹ کے دیگر مقابلوں پر منتقل کردیے تھے۔
جارجیا نے 2020 میں معمولی فرق سے جو بائیڈن کی حمایت کی تھی، جبکہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کامیاب ہوئے تھے۔ ایسے میں اوسوف کی متوقع کامیابی ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک اہم انتخابی دھچکا ہے۔
ابتدائی نتائج ایسے وقت سامنے آئے جب 25 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں پولنگ ختم ہوچکی تھی، جبکہ ملک بھر میں ووٹوں کی گنتی جاری تھی۔
ابتدائی ایگزٹ پول کے نتائج سے بھی ٹرمپ کے لیے سیاسی ماحول مشکل دکھائی دیا۔ سروے میں صرف 38 فیصد جواب دہندگان نے ان کی کارکردگی کی تائید کی۔ اس کے نتیجے میں وسط مدتی انتخابات کے دوران کسی امریکی صدر کی مقبولیت کی اب تک کی کم ترین شرح ریکارڈ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ریپبلکن پارٹی کے قبضے والی چار نشستیں جیتنے کے ساتھ اپنی موجودہ کئی نشستوں کا دفاع بھی کرنا ہوگا۔