امریکہ و کینیڈا

امریکی انتخابات میں مسلمانوں کی تاریخی کامیابی، پہلا مسلم سینیٹر منتخب، حیدرآبادی خاندان کی نبیلہ سید بھی کامیاب!

ہندوستانی نژاد امریکی امیدوار نبیلہ سید نے الینوائے کے ریاستی سینیٹ حلقہ 26 سے کامیابی حاصل کرکے حیدرآباد کے لیے فخر کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان کے والدین 1980 کی دہائی میں حیدرآباد سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔ نبیلہ نے ریپبلکن امیدوار ڈاربی ہلز کو شکست دی۔

واشنگٹن: امریکہ کے وسط مدتی انتخابات 2026 میں مسلمان اور فلسطینی نژاد امیدواروں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرکے امریکی سیاست میں نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ مصری نژاد عبدل السید امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن منتخب ہوئے، جبکہ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے خاندان کی بیٹی نبیلہ سید نے الینوائے سے کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ غزہ میں زخمی فلسطینیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر آدم حموی اور فلسطینی نژاد امیدوار ابر کواس نے بھی انتخابی میدان میں کامیابی حاصل کی ہے۔

مشی گن سے کامیاب ہونے والے 42 سالہ عبدل السید نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی۔ وہ پیشے سے معالج ہیں اور اس سے قبل ڈیٹرائٹ کے محکمہ صحت کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کی انتخابی مہم میں صحت عامہ، معاشی نابرابری اور عام شہریوں کے مسائل نمایاں رہے۔ وہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور اسرائیل کو امریکی فوجی امداد فراہم کرنے کے بھی ناقد رہے ہیں۔

ہندوستانی نژاد امریکی امیدوار نبیلہ سید نے الینوائے کے ریاستی سینیٹ حلقہ 26 سے کامیابی حاصل کرکے حیدرآباد کے لیے فخر کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان کے والدین 1980 کی دہائی میں حیدرآباد سے امریکہ منتقل ہوئے تھے۔ نبیلہ نے ریپبلکن امیدوار ڈاربی ہلز کو شکست دی۔ ابتدائی نتائج کے مطابق انہیں تقریباً 60 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ وہ اس سے قبل 2022 میں الینوائے کی ریاستی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی تھیں اور اب ریاستی سینیٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

نیو جرسی سے ڈاکٹر آدم حموی نے بھی امریکی ایوانِ نمائندگان کی نشست جیت لی ہے۔ پیشے سے سرجن ڈاکٹر حموی نے 2024 اور 2025 کے دوران غزہ میں رضاکارانہ طبی خدمات انجام دیتے ہوئے اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کا علاج کیا تھا۔ ان کی کامیابی کو امریکی کانگریس میں مسلم اور مصری نژاد نمائندگی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ صحت کی بہتر سہولتوں، سستے مکانات اور تارکین وطن کے حقوق ان کی انتخابی مہم کے اہم موضوعات رہے۔

اسی طرح فلسطینی نژاد امیدوار ابر کواس نے نیویارک کے ریاستی سینیٹ حلقہ 12 سے کامیابی حاصل کی ہے۔ نیویارک اسٹیٹ الیکشن بورڈ کے ابتدائی نتائج کے مطابق انہوں نے 70.13 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ان کی کامیابی کو فلسطینی نژاد امریکیوں اور مسلم خواتین کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے اہم سنگ میل قرار دیا جارہا ہے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں سستے مکانات، صحت عامہ، تارکین وطن کے حقوق اور عوامی ٹرانسپورٹ جیسے مسائل کو نمایاں کیا تھا۔

دوسری جانب ان انتخابات میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو بھی بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔ اس تبدیلی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو آئندہ دو برسوں میں قانون سازی اور اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتیں، ایران کے ساتھ جنگ، تجارتی محصولات اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی ناراضگی کو انتخابی نتائج کے اہم عوامل میں شمار کیا جارہا ہے۔

مجموعی طور پر ان انتخابات میں مسلمان، ہندوستانی نژاد اور فلسطینی نژاد امیدواروں کی کامیابیوں نے امریکی سیاست میں مختلف برادریوں کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کو نمایاں کردیا ہے۔ خصوصاً حیدرآباد سے امریکہ منتقل ہونے والے خاندان کی بیٹی نبیلہ سید کی کامیابی اور عبدل السید کا پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہونا ان انتخابات کے نمایاں واقعات میں شامل ہیں۔