ایف-15 طیاروں کے پرزہ جات کی فراہمی، امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ تین ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے
سعودی عرب ایک بڑا غیر نیٹو اتحادی ہے جو خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے
واشنگٹن : امریکہ نے سعودی عرب کو دفاعی سازوسامان کی نئی ممکنہ فروخت کی منظوری دیتے ہوئے ایف-15 لڑاکا طیاروں کے پرزہ جات اور متعلقہ تکنیکی معاونت کے لیے تقریباً تین ارب ڈالر کے معاہدے پر پیش رفت کی ہے۔
پینٹاگون کے مطابق اس منصوبے کے تحت محدود تعداد میں امریکی سویلین کنٹریکٹرز یا فوجی ماہرین کی تعیناتی بھی متوقع ہو سکتی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے جاری کردہ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے اضافی و مرمتی پرزہ جات، قابلِ استعمال لوازمات، زمینی معاونتی آلات، درجہ بند اور غیر درجہ بند سافٹ ویئر، تکنیکی دستاویزات اور تربیتی سہولیات سمیت مختلف دفاعی اشیا کی خریداری کی درخواست کی ہے۔ اس پیکج میں انجینئرنگ، لاجسٹک اور تکنیکی شعبوں میں امریکی حکومت اور کنٹریکٹرز کی معاونت بھی شامل ہوگی۔
پینٹاگون کے بیان کے مطابق سعودی عرب ایک بڑا غیر نیٹو اتحادی ہے جو خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور یہ فروخت امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کے مطابق ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایف-15 طیاروں کی اپ گریڈیشن اور دیکھ بھال سے مملکت کی دفاعی استعداد میں اضافہ ہوگا اور وہ مستقبل کے خطرات سے بہتر انداز میں نمٹ سکے گی۔
ادھر گزشتہ ہفتے کے آخر میں ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کے لیے پیٹریاٹ ایڈوانسڈ کیپبلٹی-3 میزائلوں کی ممکنہ فروخت کی منظوری بھی دی تھی، جس کی مالیت تقریباً نو ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ پینٹاگون کے مطابق یہ نظام سعودی عرب، امریکہ اور اتحادی افواج کی زمینی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ سینٹ کام کے دائرہ کار میں انٹیگریٹڈ ایئر اینڈ میزائل ڈیفنس نظام کو مؤثر بنانے میں مدد دے گا۔
پی اے سی تھری-ایم ایس ای میزائل، جنہیں لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیا ہے، جدید انٹرسیپٹر تصور کیے جاتے ہیں جو بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ جدید ڈرونز کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔