یو ٹی قادر متفقہ طور پر کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر منتخب
قادر نے پروٹیم اسپیکر آر وی دیشپانڈے سے عہدہ کا جائزہ حاصل کیا۔ 53سالہ قادر کا نام چیف منسٹر نے تجویز کیا تھا۔ چو ں کہ بی جے پی اور جے ڈی ایس نے اپنے امیدواروں کو میدان میں نہیں اتارا تھا، وہ بطور اسپیکر متفقہ طور پر منتخب ہوگئے۔

بنگلورو: کانگریس کے سینئر لیڈر اور دکشن کنڑ ضلع سے پانچ مرتبہ کے رکن اسمبلی یو ٹی قادر کوچہارشنبہ کو متفقہ طور پر کرناٹک اسمبلی کا اسپیکر منتخب کرلیا گیا۔ چیف منسٹر سدارامیا، قائد اپوزیشن بسواراج بومئی اور ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار‘ قادر کو اسپیکر کی کرسی تک لے گئے۔
قادر نے پروٹیم اسپیکر آر وی دیشپانڈے سے عہدہ کا جائزہ حاصل کیا۔ 53سالہ قادر کا نام چیف منسٹر نے تجویز کیا تھا۔ چو ں کہ بی جے پی اور جے ڈی ایس نے اپنے امیدواروں کو میدان میں نہیں اتارا تھا، وہ بطور اسپیکر متفقہ طور پر منتخب ہوگئے۔
چیف منسٹر سدارامیا نے اسمبلی میں کہا کہ آپ کے والد رکن اسمبلی تھے اور آپ ایوان میں سدن ویر ایوارڈ جیت چکے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آپ بے حد اچھے قانون ساز ہیں۔ اسپیکر کی کرسی پر بیٹھنے والے افراد کو پارٹی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کام کرنا چاہیے۔
اسمبلی میں سینئر اور نوجوان ارکان اسمبلی دونوں موجود ہیں۔ ریاست میں سلگتے مسائل ہیں۔ ریاست میں نظم و ضبط کی صورت حال کو برقرار رکھنا چاہیے اور سات کروڑ کنڑ عوام کی بہبود کا ہدف حاصل کیا جانا چاہیے۔ اگر نظم و ضبط کو یقینی نہیں بنایا گیا تو پھر کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوگی۔
اگر سرمایہ کاری ہوئی تو صنعتیں آئیں گی۔ صنعتوں کی عدم موجودگی میں ملازمتوں کی تخلیق نہیں ہوسکتی۔ ہر چیز کا ایک دوسرے پر انحصار ہے۔ اس پر ایوان میں تبادلہ خیال ہونا چاہیے۔ تعمیری تجاویز دی جائیں گی۔ مباحث صحتمند ہونے چاہیے اور آپ (اسپیکر) کو اسے یقینی بنانا چاہیے۔
“ قادر کو مبارکباد دیتے ہوئے سابق چیف منسٹر بسواراج بومئی نے کہا کہ آپ کو20سال کا تجربہ حاصل ہے اور آپ رکن اسمبلی او ر وزیر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ آپ نے صبر کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔ آپ اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر رہ چکے ہیں۔
اس کرسی پر بیٹھنے والے افراد نے اس کے وقار کو بلند کیا۔ آپ کے فیصلے اور اقدامات پورے نظام کو متاثر کریں گے۔ آپ کو متوازن ہونا چاہیے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ عہدہ کے لیے دستور کی خاص اہمیت ہے۔ آپ کو بغیر تعصب کے کام کرنا ہوگا۔ آپ ترقی پسند شخص ہیں۔ آپ نے اپنے حلقہ اور ضلع میں تمام طبقات اور مذاہب کو ساتھ لیا ہے۔
اسی طرح آپ ریاست کے تمام لوگوں کو بھی ساتھ لے سکتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ سب کو ساتھ لیں گے۔“ قادر ایک نرم گو سیاستداں ہیں جو منگلورو (اُلال) حلقہ سے پانچ مرتبہ منتخب ہوچکے ہیں۔
وہ 2013ء میں سدارامیا کی کانگریس حکومت میں وزیر صحت، غذ ا و سیول سپلائز تھے۔ اس کے علاوہ وہ ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر بھی رہ چکے ہیں۔قادر نے سری دھرم استھل منجوناتھیشور کالج (ایس ڈی ایم) سے بی اے ایل ایل بی کیا۔ بائیک چلانا اور کار کی ریس ان کا جنون ہے۔
وہ ریاستی اور قومی سطح کی چمپئن شپس میں حصہ لے چکے ہیں۔ کھیلوں کے شوقین قادر کرکٹ، والی بال، فٹ بال، ہاکی اور ٹینس جنون کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ 1990ء میں وہ این ایس یو آئی کے ضلع کے جنرل سکریٹری تھے اور 1994 سے 1999 تک این ایس یو آئی کے دکشن کنڑ ضلع کے صدر رہے۔
1999 سے 2001ء تک قادر این ایس یو آئی کے ریاستی نائب صدر رہے۔2008ء میں کرناٹک کانگریس کے سکریٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 2008ء میں اپنی والد کے انتقال کے بعد مخلوعہ سیٹ کی انہوں نے نمائندگی کی اور تاحال ناقابل شکست ہیں۔
2008ء تا 2013ء کی مدت میں بطور قانون ساز بہترین کارکردگی کے لیے انہیں ”سدن ویر“ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ بہترین قانون ساز ہونے پر انہیں ”شائننگ انڈیا‘’ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔ سدارامیا حکومت میں بطور وزیر صحت اپنے دور میں انہوں نے گٹکھا پر امتناع عائد کیا اور تعلقہ دواخانوں میں ایمبولنس اور ڈائلاسس یونٹ جیسی سہولتیں متعارف کروائیں۔
انہیں بہترین وزیر صحت کا بھی ایواڈ حاصل ہوا۔ بطور وزیر غذا و سیول سپلائز کے راشن کارڈس کے حصول کے عمل کو سہل اور تیز رفتار بنانے کے لیے وہ جانے جاتے ہیں۔