تلنگانہ

تلنگانہ تلی کے مجسمہ پر جدوجہد کا بی آرایس کو اختیار نہیں: وجے شانتی

انہوں نے کہا کہ بی آرایس کو تلنگانہ تلی کے مجسمہ کے روپ میں تبدیلی کے خلاف جدوجہد کا کوئی حق نہیں ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کانگریس لیڈر و سابق رکن پارلیمنٹ وجے شانتی نے کہا ہے کہ 2007 میں تلی تلنگانہ پارٹی نے تلنگانہ تلی کے پہلے مجسمہ کی نقاب کشائی کی تھی۔

متعلقہ خبریں
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
اقراء مشن ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، کے ۴۰ سالہ ‘روبی جوبلی’ جشن کا شاندار انعقاد
زیارتِ قبور سنتِ نبویؐ، شبِ برات میں خاص روحانی اہمیت کی حامل: صابر پاشاہ

یہ مجسمہ بی ایس رام نے ڈیزائن کیا تھا۔ بعد ازاں اُس وقت کی ریاست کی حکمران جماعت بی آرایس نے تلنگانہ تلی کے مجسمہ کی نقاب کشائی کی لیکن پارٹی نے ریاست میں 10 سال سے اقتدار میں رہنے کے باوجود مجسمہ کو سرکاری درجہ اور احترام نہیں دیا گیا۔

سوشیل میڈیا کے اہم پلیٹ فارم ایکس پر اس خصوص میں کئے گئے اپنے ایک پوسٹ میں وجے شانتی نے کہا کہ جو کام بی آرایس نے دس سال میں نہیں کیا وہ کام کانگریس حکومت نے وزیراعلی ریونت ریڈی کے دور حکومت میں کیاہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آرایس کو تلنگانہ تلی کے مجسمہ کے روپ میں تبدیلی کے خلاف جدوجہد کا کوئی حق نہیں ہے۔

انہوں نے پوچھا کہ کیا ماضی میں تلی تلنگانہ پارٹی کی جانب سے بنائے گئے مجسمہ کو بی آرایس کی جانب سے تبدیل کر دیا گیا تو کیا کسی نے جدوجہد کی؟ وجے شانتی نے کہا کہ اس مجسمہ کا سیاسی جماعتوں کے فائدے کے لیے استعمال نہ کیاجائے۔