وشاکھاپٹنم: رشی کونڈہ کے ساحل پرانتہائی نایاب اورعجیب وغریب مچھلی پائی گئی
آندھراپردیش کے وشاکھاپٹنم کے رشی کونڈہ کے ساحلی علاقہ میں ماہی گیروں کے جال میں ایک انتہائی نایاب اور عجیب و غریب مچھلی پھنس گئی جسے مقامی ماہی گیر اپنی زبان میں ”کلیمویہ پامولو“ (سانپ نما مچھلی) کہتے ہیں۔
حیدرآباد: آندھراپردیش کے وشاکھاپٹنم کے رشی کونڈہ کے ساحلی علاقہ میں ماہی گیروں کے جال میں ایک انتہائی نایاب اور عجیب و غریب مچھلی پھنس گئی جسے مقامی ماہی گیر اپنی زبان میں ”کلیمویہ پامولو“ (سانپ نما مچھلی) کہتے ہیں۔
سنٹرل میرین فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سی ایم ایف آرآئی) وشاکھاپٹنم کے چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر کے کے جوئے نے بتایا کہ سائنسی طور پر اسے ”لیپرڈ مورے ایل“ کہا جاتا ہے۔ اس مچھلی کے جسم پر چیتے کی طرح کے گہرے دھبے اور دھاریاں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے یہ عام مچھلیوں سے بالکل مختلف نظر آتی ہے۔
ڈاکٹر جوئے کے مطابق یہ مچھلیاں عام طور پر 6 سے 7 فٹ تک لمبی ہو سکتی ہیں۔ یہ سمندر کی گہرائیوں میں رہنا پسند کرتی ہیں اور صرف رات کے وقت خوراک کی تلاش میں باہر نکلتی ہیں۔
گہرے پانی میں رہنے کی وجہ سے یہ بہت کم ہی ماہی گیروں کے جال میں آتی ہیں۔
رشی کونڈہ کے ساحل پر جب یہ مچھلی ماہی گیروں کے جال میں آئی تو کنارے تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ دم توڑ چکی تھی۔ اس کی انوکھی شکل اور جسامت کو دیکھنے مقامی افرادکی بڑی تعداد ساحل پر جمع ہو گئی۔