حیدرآباد

زیارتِ قبور سنتِ نبویؐ، شبِ برات میں خاص روحانی اہمیت کی حامل: صابر پاشاہ

دینِ اسلام میں جہاں زندہ انسانوں کے حقوق، آداب اور ذمہ داریوں کو واضح کیا گیا ہے، وہیں اموات کے ساتھ تعلق، ان کے لیے دعا، ایصالِ ثواب اور زیارتِ قبور کی بھی نہایت حکیمانہ تعلیم دی گئی ہے، تاکہ انسان غرورِ دنیا سے بچ کر حقیقتِ آخرت کو پیشِ نظر رکھے

حیدرآباد :اسلام ایک ایسا جامع اور کامل دین ہے جو انسان کو حیاتِ دنیا میں بھی رہنمائی عطا کرتا ہے اور حیاتِ بعدالموت کے لیے بھی اس کی فکری و عملی تیاری کراتا ہے۔ دینِ اسلام میں جہاں زندہ انسانوں کے حقوق، آداب اور ذمہ داریوں کو واضح کیا گیا ہے، وہیں اموات کے ساتھ تعلق، ان کے لیے دعا، ایصالِ ثواب اور زیارتِ قبور کی بھی نہایت حکیمانہ تعلیم دی گئی ہے، تاکہ انسان غرورِ دنیا سے بچ کر حقیقتِ آخرت کو پیشِ نظر رکھے۔

متعلقہ خبریں
محبت کی سرزمین ہندوستان، ونستھلی پورم میں مسجد قادریہ کے زیر اہتمام شاندار جشنِ یومِ جمہوریہ
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
کمشنرحیدرا نے میڈارم جاترا میں درشن کئے
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا

ان خیالات کا اظہار خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے مورخہ 31 جنوری 2026 کو صدر دفتر تلنگانہ تنظیم فروغِ لسانیات، بنجارہ ہلز روڈ نمبر 12، حیدرآباد میں منعقدہ ایک عظیم الشان پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مولانا نے فرمایا کہ قبور کی زیارت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول اور عمل دونوں سے ثابت ہے۔ ابتدا میں قبروں کی زیارت سے روکا گیا، پھر اجازت مرحمت فرمائی گئی، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے:

“اے لوگو! میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، لیکن اب تم قبروں کی زیارت کرو۔”

انہوں نے حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔”

اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک و صالح بندوں کی قبریں جنت کے باغوں میں سے ہوتی ہیں، اور جنت کے باغ بلاشبہ متبرک اور مقدس ہیں۔

مولانا نے خصوصیت کے ساتھ شبِ برات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رات مغفرت، رحمت اور روحانی بیداری کی رات ہے۔ اس بابرکت موقع پر زیارتِ قبور کا مقصد نہ کوئی رسم ہے اور نہ محض روایت، بلکہ یہ موت کی یاد دہانی، نفس کی اصلاح اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ ہے۔ شبِ برات میں قبروں پر حاضر ہوکر مرحومین کے لیے دعا، قرآن خوانی اور ایصالِ ثواب کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایصالِ ثواب زندہ لوگوں کی طرف سے اپنے مرحومین کے لیے نیکیوں کا تحفہ ہے۔ والدین، اساتذہ، بزرگوں اور تمام اہلِ ایمان کے لیے کی گئی دعا اور صدقہ نہ صرف مرحومین کے درجات کی بلندی کا سبب بنتا ہے بلکہ دعا کرنے والے کے لیے بھی مغفرت اور رحمت کا ذریعہ بنتا ہے۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے مقاماتِ مقدسہ اور آثارِ صالحین کے احترام و تعظیم پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ حصولِ برکت کی نیت سے مقاماتِ مقدسہ کو بوسہ دینا، یا نیک لوگوں کے ہاتھ پاؤں چومنا اہلِ علم کے نزدیک نیت کے اعتبار سے جائز اور مستحسن عمل ہے، جیسا کہ صحابۂ کرامؓ، تابعینؒ اور ائمۂ دین کے آثار و اقوال سے ثابت ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زیارتِ قبور میں ادب، وقار اور سنجیدگی ملحوظ رکھنا لازم ہے۔ شور و ہنگامہ، کھیل تماشہ، آتش بازی یا غیر سنجیدہ طرزِ عمل نہ صرف اس مقدس عمل کی روح کے منافی ہے بلکہ شبِ برات جیسی بابرکت رات کے احترام کے بھی خلاف ہے۔

خصوصاً نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ وہ شبِ برات کو گلی کوچوں میں گھومنے، فضول مشاغل یا غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں میں ضائع کرنے کے بجائے عبادت، توبہ، دعا، زیارتِ قبور اور ایصالِ ثواب میں گزاریں، تاکہ یہ رات ان کی زندگی میں حقیقی روحانی تبدیلی کا سبب بن سکے۔

خطاب کے اختتام پر مولانا نے فرمایا کہ والدین کی قبور کی زیارت، ان کے لیے دعا اور ایصالِ ثواب کرنا محبت، وفاداری اور اسلامی تہذیب کی روشن علامت ہے۔ یہی شبِ برات کا اصل پیغام اور اس بابرکت رات کا حقیقی تقاضا ہے۔