’ایس آئی آر‘ مہم کے دوران ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کی گئی : سائیکیہ
سائیکیہ نے اپنے خط میں خاص طور پر اسمبلی حلقہ نمبر 97 (نزیرا) میں بے ضابطگیوں کا ذکر کیا ہے۔
گوہاٹی: آسام اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف دیبرت سائیکیہ نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر الزام لگایا ہے کہ حال ہی میں آسام میں کی گئی۔
’خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) مہم کے دوران ووٹر لسٹوں میں ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ سائیکیہ نے اپنے خط میں خاص طور پر اسمبلی حلقہ نمبر 97 (نزیرا) میں بے ضابطگیوں کا ذکر کیا ہے۔
سائیکیہ نے لکھا، ’’حلقہ نزیرا کے تحت وارڈ نمبر 9، دیوپانی گوہین گاؤں کے کئی مستقل رہائشیوں نے 21 جنوری 2026 کو ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کو تحریری گزارشات جمع کرائی ہیں، جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ اہل ووٹرز ہونے کے باوجود ان کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کر دیئے گئے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ان درخواستوں کی کاپیاں ڈپٹی کمشنر شیو ساگر کو بھی بھیج دی گئی ہیں۔
دوسری جانب آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) نے بھی برسراقتدار بی جے پی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے ووٹر لسٹ کی نظرثانی مہم کو عوام کے لیے دقت طلب بناد یا ہے۔
اے آئی یو ڈی ایف کے ایم ایل اے امین الاسلام نے حال ہی میں کہا، ’’بی جے پی غیر قانونی طور پر ووٹوں میں ہیرا پھیری کے لیے ایک خطرناک کھیل کھیل رہی ہے۔ آسام میں خصوصی نظرثانی کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ جمہوریت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس بی جے پی حکومت میں خود جمہوریت خطرے میں ہے۔‘‘
انہوں نے اس معاملے کو آسام میں حالیہ بے دخلی مہموں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے نام جان بوجھ کر لسٹ سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو پہلے ہی بے دخلی کا شکار ہو چکے ہیں۔
آسام کی علاقائی جماعت آسام جاتیہ پریشد (اے جے پی) نے حال ہی میں الزام لگایا ہے کہ بہار سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن اور ناواقف ووٹروں کے نام آسام کی انتخابی فہرستوں میں شامل کیے جا رہے ہیں۔