حیدرآباد
ٹرینڈنگ

بابری مسجد کی 31 ویں برسی : حیدرآباد میں کسی تنظیم یا جماعت کی جانب سے کوئی احتجاج منظم نہیں کیا گیا

شہر کے تمام بازار، دوکانیں کاروباری ادارے معمول کے مطابق کھلے رہے۔ سڑکوں پر آر ٹی سی بسیں اور ٹریفک معمول کے مطابق جاری رہیں۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ لوگ بابری مسجد شہادت کا غم بھول چکے ہیں۔

حیدرآباد: شہادت بابری مسجد کی 31ویں برسی کے موقع پر آج یوم سیاہ منایا گیا اور بازیابی مسجد کیلئے خصوصی عبادتوں کا اہتمام کیا گیا تاہم کسی تنظیم یا جماعت کی جانب سے کوئی احتجاج منظم نہیں کیا گیا۔

متعلقہ خبریں
وحدت اسلامی ہند کا ”یوم شہادت بابری مسجد“کا انعقاد
حیدرآباد میں نومولود لڑکا کچرا کنڈی میں دستیاب
مکہ مسجد بم دھماکہ کے 16 سال مکمل، مہلوکین کے ورثاء انصاف سے محروم
جلسہ کی منسوخی کے لئے پولیس ذمہ دار۔ امجد اللہ خاں کا الزام
لون ایپ کے ایجنٹس کی ہراسانی، ایک شخص نے خودکشی کرلی

شہر کے تمام بازار، دوکانیں کاروباری ادارے معمول کے مطابق کھلے رہے۔ سڑکوں پر آر ٹی سی بسیں اور ٹریفک معمول کے مطابق جاری رہیں۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ لوگ بابری مسجد شہادت کا غم بھول چکے ہیں۔

تاریخی مکہ مسجد کی میں نماز ظہر کے بعد مصلی پرامن طور پر واپس ہوگئے۔ چارمینار، مکہ مسجد کے روبرو، پنچ محلہ شاہ علی بنڈہ، لاڈ بازار اور پرانا شہر کے علاقہ میں حالات پرامن اور معمول کے مطابق رہے۔

پولیس کا بھی کوئی خاص بندوبست نہیں دیکھا گیا۔ درسگاہ جہاد وشہادت کے دفتر واقع مغل پورہ آج بند رہا۔ تاہم دفتر کے روبرو پولیس کا بندوبست دیکھا گیا۔

صدر تحریک مسلم شبان محمد مشتاق ملک نے بابری مسجد کی 31ویں یوم شہادت کے موقع پر یوم سیاہ اور خصوصی عبادتوں کا اہتمام کرنے کی عامتہ المسلمین سے اپیل کی تھی۔

تحریک مسلم شبان کی جانب سے آج مسجد درگاہ حضرت اجالے شاہؒ سعید آباد میں احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔ محمد مشتاق ملک نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد شہادت کے 30سال گزر جانے سے مسجد کے تقدس میں کوئی کمی نہیں ہوجاتی۔

بابری مسجد ہمارے دلوں میں تاقیامت زندہ رہے گی اور ہم اس کی باز یابی کیلئے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔

مجلس بچاؤ تحریک کی جانب سے بھی آج بابری مسجد کی شہادت کی 31ویں برسی کے موقع پر یوم سیاہ منایا گیا۔

ایم بی ٹی ترجمان امجد اللہ خان نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کو ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔ ہم بابری مسجد کی باز یابی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بابری مسجد کے مسئلہ پر ہم کو ئی مفاہمت نہیں کریں گے۔