تائیوان تنازعہ، کتنا خطرناک….؟

منور مرزا

یہ طے تھا کہ امریکہ کے مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا سے جانے کے بعد دنیا میں ایسے اقدامات دیکھنے کو ملیں گے، جوبڑی طاقتوں کے درمیان توازن میں ہلچل کا باعث ہوں گے۔ عرب ممالک، خاص طور پر سعودی عرب اور ترکی کو داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے بدلتے حالات کے مطابق فوری فیصلے کیے۔ حال ہی میں امریکہ کی حکم ران ڈیمو کریٹک پارٹی کی سب سے زیرک سیاست دان اور ایوانِ نمایندگان کی اسپیکر، نینسی پلوسی نے، جو صدارت کی دوڑ میں تیسرے نمبر پر ہیں، تائیوان کا دورہ کیا،جس کے دوران وہاں کی صدر سے بھی ملیں۔ اس پر چین کے صدر، شی جن پنگ نے کہا کہ ”امریکہ آگ سے نہ کھیلے۔“ بعدازاں، چین نے تائیوان کے قریب بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں شروع کردیں اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔کچھ دنوں بعد یہ مشقیں ختم کردی گئیں کہ مقصد پورا ہوگیا تھا۔ تائیوان چین کا حصہ ہے اور اسے امریکہ ” ایک ریاست، دو نظام“ کے تحت قبول بھی کرتا ہے، تاہم جی۔7 ، ناٹو، آسیان اور کواڈ فورم کے اجلاسوں کے ساتھ صدر جوبائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے دورے نے تائیوان کے معاملے کو ایک نیا سفارتی رنگ دے دیا۔
تائیوان، انڈو چائنا کا ایک اہم علاقہ ہے، جہاں کے باسی چین کی آزادی کے وقت کومنٹنگ کی قیادت میں اپنی ایک علاقائی حکومت قائم کرنے میں کام یاب ہوئے،جسے امریکہ اور مغربی طاقتوں کی حمایت حاصل رہی ہے،جب کہ چین اسے اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ وہ تائیوان میں ” ایک ریاست، دو نظام“ کے تحت حکومتی امور چلا رہا ہے، جیسے ہانگ کانگ میں چلاتا رہا۔ اسے چین کی صبر کی پالیسی کہا جاتا ہے، یعنی دیکھو، انتظار کرو اور فوجی حملوں سے اجتناب۔ تائیوان، آبنائے تائیوان پر واقع ہے اور یہ مین لینڈ، چین کے ساتھ آبنائے کے ذریعے منسلک ہے۔ نیز،جاپان اور فلپائن کی سرحدیں بھی اس سے ملتی ہیں۔ تائیوان کی آبادی 23 کروڑ ہے اور اس کا شمار دنیا کے گنجان ترین شہری علاقوں میں ہوتا ہے۔
تاپے اس کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔ چین کے1971 ء میں اقوامِ متحدہ کے مستقل رکن بننے کے بعد سے تائیوان ایک طرح سے سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔ اسے صرف 13 ممالک نے تسلیم کیا ہے، جن میں امریکہ شامل نہیں، گو کہ وہ اس کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔ چین کی طرح تائیوان نے بھی آگے بڑھنے کے لیے اقتصادی کامیابیاں حاصل کیں۔ایشین ٹائیگر کا لفظ درحقیقت پہلی مرتبہ تائیوان ہی کے لیے استعمال کیا گیا۔ چین اور تائیوان کے درمیان خاصی کشیدگی رہی ہے، تاہم کچھ سال پہلے یہ صرف سیاست یا اصولی حد تک ہی رہ گئی تھی، مگر اس تنازعے کو پھر ہوا دی جا رہی ہے۔ تائیوان اور چین کی بڑی کمپنیز کے درمیان براہ راست تعلقات ہیں اور ہم نے نہیں دیکھا کہ تنازعے کے باوجود چین نے ان پر امریکہ کی طرف داری یا اس سے لین دین پر کوئی پابندی لگائی ہو، جیسے یوکرین کی جنگ کے بعد مغربی طاقتوں اور روس نے ایک دوسرے کے خلاف لگائیں۔
تائیوان میں بڑی بڑی کمپنیز کے دفاتر موجود ہیں اور وہاں سے چین میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے ساتھ ٹیکنالوجی بھی منتقل ہوئی۔اعداد وشمار کے مطابق، تائیوان اور چین کے درمیان روزانہ 30 کے قریب کمرشل فلائیٹس پرواز بھرتی ہیں۔یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ دونوں حصوں میں اقتصادی تعلقات کے حوالے سے کوئی خاص کشیدگی نظر نہیں آتی۔ اصل مسئلہ امریکہ کا ہے،جس نے اب اپنی پوری توجہ انڈو چائنا پر مرکوز کردی ہے۔ اس ضمن میں دو باتیں کہی جاسکتی ہیں۔ اول یہ کہ شاید دونوں بڑی طاقتیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں اور اگر ایسا ہے، تو وہ کیسے ایک دوسرے کو سیاسی اسپیس دیں گی، جس سے سیاسی معاملات سلجھیں۔
تاہم ،اب تک امریکہ اور چین کی اعلیٰ قیادتیں جب بھی ملیں، مسائل کا پُرامن راستہ تلاش کرنے میں کامیاب رہیں۔ ایشیا اور افریقہ کے گرم و سرد خطوں میں رہنے والوں کے لیے جنوب مشرقی ایشیا کی سیاست سمجھنا آسان نہیں۔یہ خطہ دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں تباہی و بربادی دیکھ چکا ہے۔ اس خطے نے ایٹم بم تک کی تباہ کاریاں برداشت کیں۔ تاہم، اب یہاں کے عوام جنگ کے نام سے نا آشنا ہیں۔ معتدل موسم رکھنے والے خطے کے معتدل مزاج لوگوں کو غصہ کم ہی آتا ہے۔ انہوں نے جاپان کے ساتھ ساٹھ کے عشرے میں ترقی کا سفر شروع کیا اور آج یہ دنیا کا سب سے دولت مند اور ترقی یافتہ علاقہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ تائیوان، امریکہ کے لیے کیوں اہم ہے،جب کہ وہ اسے چین کا حصہ بھی تسلیم کرتا ہے۔ امریکہ کا دنیا بھر سے توجہ ہٹا کر انڈو چائنا پر فوکس کرنا کوئی ہنگامی یا جذباتی نوعیت کا فیصلہ نہیں تھا۔یہ معاملات صدر بش سے بھی پہلے طے ہوئے اور کم ازکم پانچ صدور نے اس پالیسی کی آب یاری کی۔ اب جب کہ اس پر عمل ہوچکا ہے، تو امریکی پالیسی سازوں کے لیے اہم سوال یہی ہے کہ آخر چین جیسی بڑی فوجی اور اقتصادی قوت کا راستہ کیسے روکا جائے۔ شاید یہی سوال80 سال پہلے جاپان کے معاملے میں بھی اسے درپیش تھا۔ اس وقت تو اس کا حل ایٹم بم سے نکالا گیا، لیکن اب دنیا بالکل بدل چکی ہے۔ علاقے میں ایک نہیں، تین بڑی طاقتیں ہیں اور تینوں ایٹمی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اگر کواڈ فورم کے ذریعے بھارت کو بھی ان میں شامل کر لیا جائے، تو یہ چار قوتیں بن جاتی ہیں۔
امریکی پالیسی سازوں کو جاپان کا اس علاقے میں تجربہ ہے اور وہ اس کے نقصانات سے بھی واقف ہیں، اسی لیے وہ بچ بچا کر چلنا چاہتے ہیں۔تاہم یہ طے ہے کہ امریکی پالیسی سازوں کو چین کی بڑھتی قوت پر شدید تشویش ہے۔ چین خلا سے لے کر زمین کے ہر کونے اور ہر شعبے میں امریکہ کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے، لیکن ابھی تک دونوں بڑی طاقتیں صدر پوٹن جیسی فوجی جلد بازی کی بجائے مذاکرات اور اقتصادیات کو اپنا محور بنائے ہوئے ہیں۔امریکہ اور چین دنیا کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے دونوں حلیف، جاپان اور ہندوستان بھی چین کے شراکت دار ہیں۔
امریکہ اور چین میں سے کسی کے لیے بھی ان تعلقات کا فوری خاتمہ ممکن نہیں۔ صدر پوٹن نے اپنے تیل و گیس کے ذخائر کے زعم میں اور یوروپ پر اپنی توانائی کی اجارہ داری کے اعتماد پر یوکرین پر حملہ کر کے دیکھ لیا۔اب وہ جس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے دنیا سے بد دعائیں بھی لیں کہ یوکرین کی جنگ نے دنیا کو مہنگائی سے مار ڈالا۔
تجزیہ کار نینسی پلوسی کے تائیوان کے دورے کی دو وجوہ زیر بحث لائے ہیں،جن میں سے ایک اندرونی اور دوسری بیرونی ہے۔ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور جوبائیڈن تمام کوششوں کے باوجود عوام میں کوئی خاص مقبولیت حاصل نہیں کر سکے۔ شاید اس کی ایک وجہ تو کورونا ہے، جس کا آخری ملبہ ان پر گرا۔دوسری اہم وجہ افغانستان سے واپسی ہے، چاہے اسے حکومت کی حکمت عملی قرار دیا جائے لیکن اس انخلا سے عمومی تاثر یہ بنا کہ واپسی افراتفری میں ہوئی اور امریکہ جیسی بڑی طاقت نے بڑا نام نہیں کمایا۔تیسری بات یوکرین کی جنگ ہے، جس میں بلاشبہ جوبائیڈن نے سخت اسٹینڈ لیا اور پوٹن کے مقابلے میں ان کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے، مگر جنگ کی وجہ سے مغربی ممالک اور امریکہ کو مہنگائی نے لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایسی جنگوں میں، جن کے عالم گیر اثرات ہوں، بڑے آہنی فیصلے کرنے پڑتے ہیں، لیکن اس کے فوجی، معاشی یا معاشرتی اثرات بہرحال عوام ہی کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ یوکرین کی جنگ دوسری عالمی جنگ کی طرح امریکہ سے چھ ہزار میل دور یوروپ کے انتہائی مشرقی کونے پر ہو رہی ہے، لیکن گلوبلائزیشن اور تجارتی تعلقات نے اس کے اثرات تیزی سے امریکہ تک پہنچا دیے۔ وہاں پٹرول دو ڈالر فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔ جوبائیڈن کے لیے ایک مشکل یہ بھی کھڑی ہوگئی کہ ٹرمپ پھر سے مقبول ہو رہے ہیں۔
صحیح یا غلط، تجزیہ کار وسط مدتی انتخابات میں ان کی جیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ یہ وہ اندرونی پس منظر ہے، جس میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی سب سے طاقت ور شخصیت کو تائیوان کا دورہ کرنا پڑا۔ جواباً چین نے نینسی پر پابندیاں لگا دیں،گو کہ یہ ایک طرح سے علامتی ہے کہ نینسی کی کون سی کوئی فرم چین سے تجارت کر رہی ہے۔ اب ذرا اس معاملے کے خارجہ یا کسی حد تک فوجی پہلو پر بھی نظر ڈال لی جائے۔ امریکی تجزیہ کار یوکرین کی جنگ کے بعد بار بار اشارہ کر رہے تھے کہ شی جن پنگ بھی پوٹن کی قربت کی وجہ سے شاید امریکہ پر دباو¿ ڈالنے کے لیے تائیوان کے خلاف کوئی فوجی قدم ا±ٹھائیں۔
چھ ماہ قبل صدر شی جن پنگ اور صدر بائیڈن کی ورچوئل ملاقات میں تائیوان کے معاملے پر خاصی ناخوش گوار گفتگو ہوئی تھی۔ چین سے متعلق امریکہ کے سائبر وار بیانات میں بھی بہت تلخی دیکھی گئی، لیکن یہ دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کی مجبوری تھی کہ یہ کسی فوجی ٹکراﺅ کی طرف نہیں گئے، بلکہ امریکہ اور چین کے مابین تجارتی حجم بڑھتا ہی جارہا ہے۔پھر ایک بہت ہی اہم پیش رفت یہ سامنے آئی کہ گزشتہ سال ناٹو سربراہی اجلاس میں چین کو نمبر ایک خطرہ اور سب سے تیزی سے بڑھتی فوجی طاقت قرار دیا گیا تھا، لیکن دو ماہ قبل اسپین میں منعقدہ ناٹو سربراہی اجلاس میں روس کو دشمن نمبر ایک قرار دیا گیا۔ علاوہ ازیں، چین کے بارے میں زبان اگر نرم نہیں، تو غیر معمولی سخت بھی نہیں تھی۔کہا گیا کہ اس کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اب یہ دونوں پہلو سامنے رکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تائیوان کے معاملے میں گرما گرمی کس حد تک جاسکتی ہے۔یہ تو واضح ہے کہ چین،تائیوان پر اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، تاہم کیا وہ چاہے گا کہ جب اس کے امریکہ، جاپان، ہندوستان اور دیگر امریکی اتحادیوں سے اتنے اچھے تجارتی تعلقات ہیں، تو وہ صدر پوٹن جیسی فوجی حکمت ِ عملی استعمال کر کے سب کچھ تلپٹ کردے۔ ویسے بھی دیکھا جائے، تو روس کو مغرب نے دوسری عالمی جنگ کے بعد یوروپ پر سب سے بڑا بیرونی حملہ قرار دیا ہے، جب کہ چین کے مقابلے کے لیے امریکہ اور حلیفوں نے کسی فوجی منصوبے کی بجائے چین کے ” بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے“ کی طرز پر ایک ترقیاتی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے ابھی تک ٹھوس خدوخال سامنے نہیں آئے، بس چھ ارب ڈالرز مختص کرنے کی بات کی گئی ہے۔
کواڈ فورم، جس میں امریکہ، جاپان، ہندوستان اور آسٹریلیا جیسے بڑے ملک شامل ہیں، چین کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیوں کہ یہ اسے محدود کرنے کی پالیسی کے تحت قائم کیا گیا ہے، لیکن اس میں جتنے بھی ممالک شامل ہیں، ان سب کی چین سے اربوں ڈالرز کی تجارت ہوتی ہے۔ان ممالک کی پہلی خواہش یہی ہوگی کہ وہ امریکہ اور چین کے کسی بھی فوجی تنازعے میں نہ الجھیں۔تائیوان میں حالیہ گرما گرمی شاید یوکرین کے تناظر میں میڈیا، خاص طور پر مغربی میڈیا میں کچھ زیادہ ہی اہمیت حاصل کر گئی، وگرنہ فوجی مشقیں اور طیاروں کا سرحدیں پار کرنا کسی جنگ کا اشارہ نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button