سیاستمذہبمضامین

نجات کی رات: شبِ برات

پروفیسر اختر الواسع

دن، رات ، ہفتے، مہینے ،سال سب اللہ کے بنائے ہوئے ہیں۔سب کی اپنی اہمیت ہے، ہر دن نہایت بیش قیمت تحفہ ہے، ہر رات قدرت کا عظیم انعام ہے، اس لیے ہر رات اور ہر دن کی قدر کرنا ضروری ہے۔ اس کی رحمت ہر دن اور ہررات میں بکھری ہوئی ہے،اس کی تلاش و جستجو میں جو وقت گزر جائے وہ نہایت بابرکت ہے۔
اللہ رب العزت نے بنایا توسب کو برابر ہے لیکن کچھ دن، کچھ مہینے اور کچھ راتیں ایسی ہیںجن کو خدا نے کوئی نسبت عطا کی اور اس نسبت کی بنا پر اس کو دوسرے اوقات و ایام پر فضیلت حاصل ہو گئی ہےجیسےکسی دن کی قسم کھالی ،کسی رات میں فیصلے فرمادیے، کسی مہینے میں قران مجید نازل فرمایا، کسی دن کو نبی آخر الزماں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با برکت کے لیے مخصوص فرما دیا ۔
اللہ کی طرف سے جن شب و روز کو خصوصی فضیلت عطا کی گئی ان میں شب برات بھی ہے۔ شب برات وہ مقدس رات ہے جس میں سرکار دو عالمﷺ قبرستان تشریف لے گئے، اسی نسبت سے آج تک لوگ اس رات کو قبرستان جاتے ہیں اورانھیں نقوش پا کی تقلید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
رمضان المبارک اسلامی تقویم کا سب سے مقدس مہینہ ہے۔ شب برات ایک طرح اس ماہ مقدس کی آمد کا اعلان بھی ہے، بلکہ پورا شعبان ہی بڑا مقدس مہینہ ہے۔ شعبان کا مہینہ شروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ عبادات کے لیے کمر کس لیتے اور معمول کی عبادات سے زیادہ عبادت کرتے۔ ایک روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےکہ ’’اللہ کے نبی شعبان سے زیادہ روزے کسی مہینے میں نہیں رکھتے تھے،آپﷺ شعبان کا پورا مہینہ روزہ رکھتے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کرو جتنا تم کر سکتے ہو، بے شک اللہ تعالیٰ(اجر دینے سے) نہیںتھکتا یہاں تک کہ تم عمل کرنے سے تھک جاؤ۔(بخاری)
اس طرح کی روایات اور بھی بہت سی ہیں جن میں شعبان کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔بعض روایات میں خاص پندرہ شعبان کی فضیلت بھی واضح طور پر بیان کی گئی ہے ، جیسے ایک روایت میں ہے:
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب شعبان کی درمیانی شب آتی ہے تو اللہ تعالی اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور گناہوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں،سوائے مشرک اور کینہ پرور کے‘‘۔( صحیح الترغیب والترہیب)
بعض کتابوں میں اور روایات بھی اس مقدس رات کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں جن میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو تو عام طور پر نقل کیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں:
ــ’’ایک رات میں نے رسول اللہﷺ کو نہ پایاتو میں آپ ﷺ کی تلاش میں نکلی ، کیا دیکھتی ہوں کہ آپﷺ جنت البقیع میں ہیں۔ آپ ﷺ نےفرمایا کیا تجھے خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ تیرے ساتھ نا انصافی کریں گے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ میں نے سو چاشاید آپ کسی دوسری زوجہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالی پندرہویں شعبان کی رات کو اپنی شان کے لائق آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔
اس موضوع پر اور بھی روایات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس رات میں عبادت کرنا اورقبرستان جانا اور عبرت حاصل کرنا چاہیے۔
شب برات کی مقدس رات بڑی فضیلتوں اور برکتوں کی رات ہے۔اس میں اصل کرنے کے کام یہ ہیں کہ انسان نوافل کا اہتمام کرے،نماز اور ذکر کی کثرت کرے، مسجدوں میں زیادہ وقت گذارے، شب بیداری کرے ، تہجد پڑھے اور دن میں روزے رکھے۔ اس کے ساتھ اس کا بھی اہتمام کرے کہ اس کے قرب و جوار میں،اور عزیز و رشتہ داروں میں کوئی ضرورت مند نہ ر ہے، اس کی ضرورت پوری کرے، صدقہ و خیرات کرے، اپنے لیے، اپنے والدین،بزرگوں اوررشتہ داروں کے لیے دعائے خیر کرے، جو اس دنیا سے چا چکے ہیں ان کے لیے دعائے مغفرت کرے، خاص طورپران کےلیے تو دعا کرنی چاہیے جن کا حق ہے اور جن کو بھولے رہتے ہیں،ساتھ ہی پوری امت کے لیے اور پوری دنیا کے لیے دعا کرے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی لمحے کی دعا کو شرف قبولیت مل جائے اور دنیا کے مسائل کم ہو جائیں اور عالم انسانیت میں امن قائم ہو جائے۔ یہ تعین رکھے کہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے ،اگر ابھی اس دعا کے ظاہری طورپر قبول ہونے کا وقت نہ ہواتب یعنی عالم انساست کے لیے امن کی دعا، دعا مانگنے کو انسانوں کے اس مجمعے کا حصہ بنا دےگی جو امن کے ساتھ تھے، جو انسانیت کی فکر کرتے تھے۔
نماز و ذکر اور دعا کے علاوہ اس رات میں قبرستان جانا ، وہاں کے مدفونین کے لیے د عائے مغفرت کرنا اور عبرت لینا بھی پسندیدہ عمل ہے۔ اس کا بھی اہتمام کرنا چاہیے ۔وقار و طمانیت کے ساتھ قبرستان جانا چاہیے اور فاتحہ پڑھنی چاہیے۔
جو کام جتنا اہم اور معزز ہوتا ہےاس کے تقاضے اور آداب بھی اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔اس لیے اس رات میں خاص طور پر آداب کی خصوصی رعایت کرنی چاہئے۔ بعض لوگوں نےشب برات کو پٹاخے پھوڑنےاور موٹر سائیکل سے اسٹنٹ دکھانے کا ذریعہ بنا لیاہے جو کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔ یہ رات عبادت کے لیے ہے ،ہلّڑ بازی کے لیے نہیں،ہر محلے اور علاقے کے ذمہ داران کو چا ہیے کہ اس رات کا احترام کریں اور دو سروں سے بھی کرائیں۔ خاص طورپر محلے کے نو عمر بچوں کو نصیحت کریں اور کوئی بھی ایسی بات نہ ہونے دیں جو اس رات کے تقدس کے منافی ہو۔
شب برات عبادت کی رات ہے اور اس کا دن روزہ رکھنے اور صدقہ کرنے کا دن ہے، اس لیے اس رات اور اس دن کو خیر کے کاموں میں استعمال کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اس کی توفیق نصیب فرمائے۔
(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلا میہ میں پروفیسر ایمریٹس (اسلامک اسٹڈیز) ہیں)
۰۰۰٭٭٭۰۰۰