مضامین

ڈھونگی بھکاری اور شہری

ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ معذور او رحالات کے مارے شخص کی مدد کی جائے، لیکن حالات کے تجزیے سے لگتا ہے کہ یہ جذبہ ٔ انسانیت ختم ہوتا جا رہا ہے، آخر کیوں؟ بات دراصل یہ ہے کہ پیشہ گداگری کو اپنانے والوں کا راز فاش ہورہا ہے اور نہایت تلخ حقائق منظرعام پر آرہے ہیں

ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ معذور او رحالات کے مارے شخص کی مدد کی جائے، لیکن حالات کے تجزیے سے لگتا ہے کہ یہ جذبہ ٔ انسانیت ختم ہوتا جا رہا ہے، آخر کیوں؟ بات دراصل یہ ہے کہ پیشہ گداگری کو اپنانے والوں کا راز فاش ہورہا ہے اور نہایت تلخ حقائق منظرعام پر آرہے ہیں اور یہ بات عیاں ہوتی جارہی ہے کہ خرچ کیا جانے والا مال مستحقین تک نہیں پہنچ رہاہے ، لہٰذا ڈھونگی بھکاریوں سے دوری اختیار کی جارہی ہے جس کی وجہ سے مستحق بھی محروم ہورہے ہیں ۔جس طرح دیہی علاقوں میں خاندانی فقیر ہوتے ہیں اسی طرح شہروں میں کچھ چالاک اور لالچی قسم کے لوگ خود کو بھکاری کے روپ میں ڈھال لیتے ہیں۔تعجب ہے کہ گداگری کی خاطر بھکاری ضلع در ضلع ، ریاست در ریاست ہی نہیں بلکہ ملک در ملک بھی رخت سفر باندھتے ہیں ۔ سنا ہے کہ حج کے موقع پر محض پیشہ ٔ گداگری کی خاطر مقامات حج تک سفر کرتے ہیں ۔

حیدرآباد جیسے شہروں میں بھکاری کچھ اس طرح کا روپ دھار لیتے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ان پر رحم آجاتا ہے۔گود میں ایک بچہ ہوتا ہے جونہایت قابل رحم ہوتا ہے۔ چنانچہ راہ گیر ظاہری حالت زار کو دیکھ کر ایک نہیں بلکہ دس کی نوٹ اس کے ہاتھ میں تھما جاتا ہے جب کہ پس پردہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اولاً یہ گود والا بچہ اس کا نہیںہوتا ،بلکہ بطور مستعار لایا جاتا ہے ، اس کی یہ خستہ حالی ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔جب یہ حقیقت کسی نہ کسی طریقے سے ظاہر ہوجاتی ہے تو خیرات دینے والے کے دل پر گہری چوٹ لگتی ہے، جس کی بنا پر وہ سخاوت سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔

اسی طرح آپ دہلی ، ممبئی جیسے مقامات پر جائیں تو آپ کو کوئی ایسا شخص دکھائی دے گا جو دونوں ہاتھوں اور پیروں سے محروم ہوگا، زمین پر گھسیٹ گھسیٹ کر راستہ طے کرنے والا ہوگا ، چہرے پر غربت و افلاس کے آثار نمایاں ہوں گے، اس کی حالت دیکھ کر حقیقت حال سے بے خبر شخص کے آنسو رواں ہوجائیں گے، اس کے لیل و نہار کے کٹنے اور اس کی بھوک و نیند کے پورے ہونے سے متعلق سوچ و بچار میں مستغرق ہوجائے گا او راس کو کچھ نہ کچھ رقم دے کر ہی واپس لوٹے گا لیکن جب وہ حقیقت حال سے واقف ہوگا تو وہ افسوس کرنے پر مجبو رہوجائے گاکہ اس نے کس ڈھونگی بھکاری کی مدد کردی! اور پھر وہ کسی پر رحم و کرم کرنے میں احتیاط برتنے لگے گا۔

ڈھونگی بھکاریوں کے علاوہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اسلامی وضع قطع کا بھرپور سہارا لے کر امت کو فریب دے رہے ہیں اور مدارس و مکاتب کے نام پر مال بٹور رہے ہیں اور دین کے نام پر اپنا کام نکال رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں بھی فریب و دھوکا دینے والے اشخاص منظر عام پر آرہے ہیں اور امت کے اہل خیر حضرات مدارس و مکاتب اور با فیض اداروں سے بدظن ہورہے ہیں اور شک و شبے کی بنا پر اپنا اخروی نقصان کررہے ہیں ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ان فریب دینے والوں سے چوکنا رہ کر ہر شہر و دیہات کے ذمے دار حضرات کچھ ایسا دستور و قانون وضع کریں کہ اس کی روشنی میں ، خواہ غربااور محتاج حضرات ہوں یا ارباب مدارس و مکاتب یا مساجد، ان کا بھرپور تعاون کیا جاسکے اور ’’ حق بحقدار رسید ‘‘ پر عمل آور ہوا جاسکے۔

٭٭٭