سیاستمضامین

کون ہیں آپ کمانے والے یا

قارئین وزیر اعظم کے ساتھ تصویر کشی کروانا بہت سارے لوگوں کی زندگی کے لیے بہت بڑا موقع ہوتا ہے اور لوگ جب وزیر اعظم کے ساتھ فوٹو کھنچوا لیتے ہیں تو اس کواپنے موبائل فون کے علاوہ فیس بک اور ٹویٹر غرض ہر جگہ شیئر کرتے ہیں۔ لیکن اندازہ کریں کہ وزیر اعظم کے ساتھ کسی شخص نے تصویر کھنچوائی اور وہ تصویر خود اعظم نے اپنے ٹوئیٹر کے ذریعہ شیئر کر رہے ہوں تو آدمی کس قدر اہمیت کا حامل اور اس کی شخصیت کتنی بڑی ہوگی۔

محمد مصطفی علی سروری

یہ اکتوبر 2021ء کی بات ہے جب سوشیل میڈیا، پر وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک شخص کی ملاقات کی فوٹو وائرل ہوئی تھی۔ قارئین کرام یوں تو ہزاروں، لاکھوں لوگوں کے ہاںایسی تصاویر ہوں گی جس میں وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ کھڑے ہوں گے لیکن جس تصویر کے متعلق یہاں پر ذکر کیا جارہا ہے۔ وہ تصویر راکیش جھنجھن والا کی ہے۔ راکیش جھنجھن والا کون ہے یہ بھی جان لیجئے۔ دنیا بھر میں امیر ترین افراد کی فہرست تیار کرنے والی میگزین فوربس (Forbes) کے مطابق جھنجھن والا ہندوستان کی اسٹاک مارکیٹ کے سب سے کامیاب ترین اور امیر ترین سرمایہ کار تھے۔ جی ہاں، جھنجھن والا کا 14؍ اگست 2022ء کو 62 برس کی عمر میں دیہانت ہوگیا۔ وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔
اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ وہ یہ کہ جب اکتوبر 2022ء میں جھنجھن والا نے وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کی تو اس وقت انہوں نے سفید رنگ کا ایک شرٹ پہنا ہوا تھا۔
قارئین وزیر اعظم کے ساتھ تصویر کشی کروانا بہت سارے لوگوں کی زندگی کے لیے بہت بڑا موقع ہوتا ہے اور لوگ جب وزیر اعظم کے ساتھ فوٹو کھنچوا لیتے ہیں تو اس کواپنے موبائل فون کے علاوہ فیس بک اور ٹویٹر غرض ہر جگہ شیئر کرتے ہیں۔ لیکن اندازہ کریں کہ وزیر اعظم کے ساتھ کسی شخص نے تصویر کھنچوائی اور وہ تصویر خود اعظم نے اپنے ٹوئیٹر کے ذریعہ شیئر کر رہے ہوں تو آدمی کس قدر اہمیت کا حامل اور اس کی شخصیت کتنی بڑی ہوگی۔
5؍ اکتوبر 2021ء کو وزیر اعظم نریندر مودی نے صبح سات بجکر 26 منٹ پر راکیش جھنجھن والا کے ساتھ اپنی تصویر ٹویٹر پر شیئر کی۔ livemint نے فوربس میگزین کے حوالے سے بتلایا کہ جھنجھن والا کی دولت 5.8 بلین ڈالر مالیتی ہے اور وہ ہندوستان کے 48 ویں امیر ترین شخص بتلائے گئے ہیں۔ انہوں نے سال 2021 کے دوران Akasa Air کے نام سے ایک ایئر لائن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے لیے انہوں نے اگلے چار برسوں کے دوران بوئنگ اور ایر بس طیارہ ساز کمپنیوں سے 70 طیارے خریدنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
قارئین اب میں اس موضوع کی طرف لوٹ آتا ہوں جس کا کالم کے آغاز میں ذکر کیا تھا۔ اکتوبر 2021ء کو وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران جھنجھن والا نے جو شرٹ پہنی تھی وہ بغیر استری کروائی دکھائی دے رہی تھی۔ کیونکہ اس شرٹ پر کئی جگہ سے فولڈ کے نشانات صاف دکھائی دے رہے تھے۔ یہی نہیں، انہوں نے اپنی شرٹ کو پینٹ کے اندر In بھی نہیں کیا تھا۔
وزیر اعظم کی جانب سے جب یہی تصویر ٹویٹر پر جاری کی گی تو لوگوں نے جھنجھن والا کی معمولی سی اور خراب نظر آنے والی شرٹ پر سوالات اٹھائے۔ بعد میں جھنجھن والا نے ان سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ہاں میں پیسے دے کر شرٹ کو استری کروایا تھا لیکن وہ خراب ہوگئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجھے وزیر اعظم سے ملنے جانا تھا۔ میں کونسا وہاں کوئی کاروباری یا تجارتی میٹنگ میں گیا تھا۔
ہندوستان کے چند ایک امیر ترین سرمایہ داروں میں شمار ہونے والے جھنجھن والا نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم اصل میں متوسط خاندان والے لوگ ہیں۔ اگر میں تاج ہوٹل میں بھی قیام کروں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں پر کھانا سستا ترین کھائوں۔ میں تو ہوٹل والوں سے باضابطہ پوچھ لیتا ہوں کہ آپ لوگوں کا Fixed بریک فاسٹ کہاں ملے گا۔
قارئین ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے راکیش جھنجھن والا نے 5 ہزار روپیوں سے اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا اور کروڑوں کے مالک بنے اور اس کے باوجود ہوٹل میں جاکر دریافت کرتے تھے کہ سستا والا ناشتہ کہاں ملے گا؟
ایسی سادگی کی مثال آج کے دور میں کہاں ملے گی؟ یہاں تک کہ ہمارے ہاں معمولی گلی کے لیڈر کا بھی حال دیکھ لیجئے گا کہ بغیر سلوٹ والے کپڑے ہونا ضروری ہے۔ سواری کے لیے خاص برانڈ چاہیے۔ صرف گلی کا لیڈر ہی نہیں ہمارے سماج میں عوام ہوں یا خواص بچت کا تصور تو ہے ہی نہیں اور اپنی تمام تر خواہشات کی تکمیل اول ترجیح بن گئی۔ پھر چاہے اس کے لیے قرضوں کے دلدل میں ہی کیوں نہ جانا پڑے۔
قارئین کرام مثالیں چیزوں کو سمجھانے کے لیے دی جاتی ہیں۔ تو میں یہاں پر ٹوینکل کھنہ، فلم ایکٹریس کی مثال دینا چاہوں گا۔ اکشے کمار کی بیوی ٹوئنکل کے حوالے سے اخبار ہندوستان ٹائمز نے 22؍ اگست کو شائع اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہندوستان کے ایک مشہور ایکٹر کی بیٹی اور ایک دوسرے ایک ایکٹر کی بیوی ہونے کے باوجود وہ اپنے اخراجات کو کم سے کم کرنے پر توجہ دیتی ہیں۔
ٹوئنکل نے اپنے دونوں بچوں کی تعلیم کا خرچ اپنی بچت کے کھاتے سے پورا کیا اور اتنا ہی نہیں خود اپنی ماسٹرس کی تعلیم کے لیے فیس کے اخراجات بھی خود ہی ادا کیے۔
Tweak India چیانل ٹوئنکل کھنہ چلاتی ہیں۔ انہوں نے اس چیانل کے ذریعہ کہا کہ آج کے دور میں معاشی طور پر خود مکتفی ہونا بے حد ضروری ہے اور انہوں نے خود اپنی بچت کے ذریعہ سے جمع ہونے والی رقم سے Tweak کا آغاز کیا۔ اپنے بچوں کی تعلیم کا خرچہ برداشت کیا اور خود اپنے لیے پی جی کی تعلیم کی فیس ادا کی۔
ٹوئنکل کھنہ نے بتلایا کہ فلم اسٹار جوڑی کی اولاد ہونے کے باوجود انہوں نے کم عمری میں ہی کمانا شروع کردیا تھا۔ اور اپنی آمدنی سے سلور کلر کی Opel پہلی کار خریدی تھی۔
ٹوئنکل کھنہ کے حوالے سے اخبار نے لکھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے بچے صرف یہ نہیں کہیں کہ ان کی ماں نے انہیں صرف آلو پراٹھے کھلائے ہیں۔ اب میرے بچے فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری تعلیم کا خرچ بھی ہماری ماں نے ہی اٹھایا ہے۔
ٹوئنکل کھنہ ہمیشہ اپنے اخراجات کو اپنی آ مدنی سے کم رکھتی ہیں۔ ان کے خاندان والوں کو تو شکایت رہتی ہے جب انہیں خرچ ہی نہیں کرنا ہے تو وہ کمانے کے لیے محنت کیوں کر رہی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے، ٹوئنکل کھنہ نے ایکٹنگ چھوڑنے کے بعد بطور رائٹر کام شروع کیا ہے۔
قارئین ٹوئنکل کھنہ تو فلموں میں کام کرنا بند کرچکی ہیں۔ لیکن ان کے شوہر فلم ایکٹر اکشے کمار آج بھی بالی ووڈ میں سب سے زیادہ فلمیں کرنے والے ایکٹر ہیں۔ ان کے ڈسپلن کے حوالے سے بھی کئی باتیں کہی جاتی ہیں۔ حالانکہ بطور ایکٹر وہ صبح دیر گئے بھی بستر سے اٹھ سکتے ہیں مگر اکشے کمار پوری فلم انڈسٹری میں اس بات کے لیے مشہور ہیں کہ وہ ہر روز صبح 4 بجے بستر سے اٹھ جاتے ہیں اور صبح جلد بیدار ہونے کی ان کی یہ عادت سے ہر ایک واقف ہے اور وہ اپنے کام کاج کا آغاز بھی جلد ہی کردیتے ہیں۔
قارئین غور کریں بڑے بڑے فلم ایکٹر بھی کمانے اور ساتھ میں بچت کرنے کی فکر کرتے ہیں اور اپنے دن کا آغاز صبح 4 بجے کردیتے ہیں۔
پونم کا تعلق لدھیانہ پنجاب سے ہے۔ لاک ڈائون کے دوران جب پونم کی جاب چلی گئی تو اس نے اپنے شہر کی مارکیٹ میں گول گپے فروخت کرنا شروع کردیا۔ انڈیا ٹائمز کی 9؍ اگست 2022ء کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ بات تو مشہور ہے کہ لڑکیوں کو گول گپے کھانا بہت پسند ہے۔ لیکن پونم نے اس چیز کو اپنے کاروبار اور کمانے کا ذریعہ بنالیا اور گول گپے اور آلو کی ٹکیہ بناکر فروخت کرنا شروع کردیا۔ پونم نے اپنے کاروبار کے ذریعہ گذشتہ ایک برس کے دوران خاصی آمدنی حاصل کرلی اور وہ اس کاروبار کو جاری رکھنا چاہتی ہیں۔یہ تو اوروں کی بات رہی۔ خود مسلمانوں میں بھی محنت اگر کوئی کر رہی ہیں تو وہ خواتین ہی نظر آرہی ہیں۔
شہر حیدرآباد اور تلنگانہ کی خواتین بھی محنت کر رہی ہیں۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ وہ شہر حیدرآباد اور تلنگانہ میں نہیں بلکہ بیرون ملک جاکر محنت کرنا چاہتی ہیں اور اس طرح بیرون ملک ملازمت کے نام پر دھوکے کا شکار بننے والی حیدرآبادی خواتین کے متعلق اخبار تلنگانہ ٹوڈے نے 19؍ اگست 2022ء کو How Post Graduate Hyderabadi lady became Victim of Gulf Job Scam کی سرخی کے تحت ایک ایسی حیدرآباد پوسٹ گریجویٹ لڑکی کے بارے میں تفصیلی رپورٹ لکھی کہ ایم اے انگلش کامیاب یہ لڑکی بہتر ملازمت کے لیے جب زر کثیر خرچ کے باہر گئی تو اس کے ساتھ کس طرح دھوکہ ہوا اور باہر جانے کے بعد اس کو گھریلو خادمہ کی نوکری دی گئی۔
قارئین کرام سونچئے کہ کیسے ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے شرعی طور پر کماسکتے ہیں۔ اور اگر آپ کمانے والے نہیں تو کم سے کم خرچ کے حوالے سے سونچئے کہ ہم کیسے بچت کرسکتے ہیں۔
نئی نسل کو یہ پیغام دینا از حد ضروری ہے کہ آج کے دور میں سماج کی تقسیم دو طرح سے ممکن ہے۔ ایک تو کمانے والے اور دوسرے خرچ کرنے والے۔ لیکن زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیاب افراد کی زندگی کا تجزیہ کریں تو پتہ چلے گا کہ یہ لوگ کوشش کرتے ہیں کمانے کے ساتھ ساتھ بچت بھی کریں۔ کیوں کہ جو بچت کرے گا وہ قرضوں کے دلدل سے بچے گا۔ آج کے دور میں اس شخص سے بڑھ کر دوسرا کوئی خوش قسمت نہیں جو کماتا بھی ہے اور بچت بھی کرتا ہے۔ ذرا سونچئے آپ کیا کرتے ہیں۔ اگر آپ کمانے والے نہیں تو تب بھی آپ اپنے ہاتھ کو روک کر خرچوں کو کم کر کے کمانے والے کو بچت کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو کفایت شعاری کرنے والا بنادے اور اکل حلال کے سارے دروازے کھول دے۔ آمین یارب العالمین۔
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)۔sarwari829@yahoo.com