مشرق وسطیٰ

جنگ کا 17 واں دن: ایران کا پہلی بار اسرائیل پر ٹھوس ایندھن سے چلنے والے ’سجیل میزائل‘ سے حملہ

اس میزائل کی پے لوڈ صلاحیت تقریباً 700 کلو گرام ہے اور اس کی رینج تقریباََ 2000 سے ڈھائی ہزار کلو میٹر ہے۔ یہ میزائل مصر اور سوڈان کے کچھ حصے، یوکرین کے بیشتر حصے، جنوبی روس کے کچھ حصے، مغربی چین کے ایک حصے، ہندوستان اور بحرِ ہند اور بحیرۂ روم کے بڑے حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تہران: جنگ کے 17 ویں دن ایران نے پہلی بار اسرائیل پر ٹھوس ایندھن سے چلنے والے ’سجیل میزائل‘ داغنا شروع کر دیے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل پر حملے کے دوران ایران نے پہلی بار نئے تیز ترین سجیل میزائلوں کا استعمال کیا، سجیل ایران کا مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیا گیا ٹھوس ایندھن سے چلنے والا ٹو اسٹیج بیلسٹک میزائل ہے۔

اس میزائل کی پے لوڈ صلاحیت تقریباً 700 کلو گرام ہے اور اس کی رینج تقریباََ 2000 سے ڈھائی ہزار کلو میٹر ہے۔ یہ میزائل مصر اور سوڈان کے کچھ حصے، یوکرین کے بیشتر حصے، جنوبی روس کے کچھ حصے، مغربی چین کے ایک حصے، ہندوستان اور بحرِ ہند اور بحیرۂ روم کے بڑے حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر یہ میزائل جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو تو اس کے مزید خوفناک ہونے کا اندیشہ ہوگا۔ ایران نے اس میزائل کا پہلا تجربہ 2008 میں کیا تھا، اس وقت اس میزائل نے مبینہ طور پر 800 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا تھا، پھر بہتر گائیڈنس اور نیویگیشن سسٹم کا جائزہ لینے کے لیے 2009 میں دوسرا تجربہ کیا گیا تھا۔

دوہزار نو سے اب تک اس میزائل کے 4 اضافی فلائٹ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں اور چھٹے ٹیسٹ کے دوران اس میزائل نے بحرِ ہند میں تقریباً ایک ہزار 900 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔

ایران نے آپریشن وعدہ صادق چار کے تحت حملوں کی چوّن ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے، اسرائیلی فوج نے بھی ایران کے نئے میزائل حملوں کی تصدیق کر دی۔ جنوبی اور وسطی اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج گئے۔ ترجمان پاسداران انقلاب بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی کا کہنا ہے خطے میں دشمن کے اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

بریگیڈیئر جنرل علی نے کہا کہ چار امریکی فضائی اڈوں پر میزائل اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔ اہم انفرااسٹرکچر، کمانڈ سینٹر، ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور ہدف تھا۔ آبنائے ہرمز اب بھی ایران کے کنٹرول میں ہے، اگر ایرانی بحریہ ختم ہو چکی ہے اور امریکا میں ہمت ہے تو ٹرمپ اپنے جہاز خلیج فارس میں لے آئیں۔

انھوں نے کہا ایران زیادہ تر ایک دہائی پہلے بنائے گئے میزائل استعمال کر رہا ہے، جدید میزائل تو ابھی استعمال ہی نہیں کیے گئے۔ امریکہ کے 4 تھاڈ ریڈار سسٹمز تباہ، 18 بحری جہاز اور تیل کے ٹینکر نشانہ بنا چکے ہیں۔ دشمن کو جنگ میں یومیہ 1.5 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ دشمن کے 200 اہم اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ ہمارے حملوں سے دشمن کی فوجی طاقت کمزور ہوئی ہے۔ تھاڈ سسٹمز کی تباہی سے امریکی دفاعی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں
روسی صدر کی مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے میں مدد کی پیشکش
بے لگام اسرائیل دنیا کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے:شاہ اُردن
اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کیلئے 7 لاکھ افراد کا احتجاجی مظاہرہ