بین الاقوامی

دنیا میں آلودہ ہوا کی وجہ سے ہر سال 70 لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں: گوٹیرس

گوٹیرس نے کہا کہ فضائی آلودگی کسی حد تک محدود نہیں ہوتا اور اس کی آلودگی ہزاروں کلومیٹر تک پھیلتی ہے۔ موسمیاتی بحران کے تباہ کن اثرات ہر براعظم پر بڑھ رہے ہیں۔

جنیوا: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیا گٹیرس نے چہارشنبہ کو کہا کہ دنیا بھر میں ہر سال آلودہ ہوا کی وجہ سے 70 لاکھ سے زیادہ لوگ قبل از وقت موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

گٹیرس نے یہ بات آج یہاں 7 ستمبر کو منائے جانے والے ’نیلے آسمانوں کے لیے صاف ہوا کے بین الاقوامی دن‘ کے موقع پر کہی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی 99 فیصد آبادی کاربن، سلفر اور زہریلے کیمیکل والی ہوا میں سانس لے رہی ہے اور اس کا عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے گہرا تعلق ہے۔

یہاں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کا مسئلہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں زیادہ سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کسی حد تک محدود نہیں ہوتا اور اس کی آلودگی ہزاروں کلومیٹر تک پھیلتی ہے۔ موسمیاتی بحران کے تباہ کن اثرات ہر براعظم پر بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مسائل کے حل کے لیے ہمیں صاف ہوا کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فوسل فیول بالخصوص کوئلے کے استعمال کو کم کرنا ہوگا اور صاف قابل تجدید توانائی کو فروغ دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے میں نے موسمیاتی یکجہتی کا معاہدہ تجویز کیا ہے۔ جس کے تحت تمام بڑے ایمیٹرز اپنے اخراج کو کم کرنے کی کوشش کریں گے اور امیر ممالک مالی اور تکنیکی امداد اکٹھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایکسلریشن ایجنڈا بھی تجویز کیا ہے۔ انہوں نے درخواست کی ہے کہ تمام ممالک اس پر عمل درآمد کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں باورچی خانوں میں صاف ایندھن اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں لوگوں کو چلنے اور سائیکل چلانے اور فضلہ کے ذمہ دارانہ بندوبست کی مشق کرنے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند زمین کے لیے آنے والی نسلوں کو ہوا کو آفاقی اور سب کی ذمہ داری کے طور پر قبول کرنا ہو گا۔