امریکہ و کینیڈا

امریکہ کے 3 بحری جہاز آبنائے ہرمز پار کرگئے، ان جہازوں پر ایران نے حملہ کیا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے ساتھ معمولی جھڑپ کے باوجود فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم انہوں نے تہران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر جلد معاہدے پر دستخط نہ کیے گئے تو اسے انتہائی سخت جواب اور سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے ساتھ معمولی جھڑپ کے باوجود فی الحال جنگ بندی برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جنگ بندی یا محض دکھاوا، غزہ، لبنان اور ایران میں حملے جاری
جرمنی آبنائے ہرمز میں مشن کے لیے تین بحری جہاز تعینات کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے
ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کردیا
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے ساتھ معمولی جھڑپ کے باوجود فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم انہوں نے تہران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر جلد معاہدے پر دستخط نہ کیے گئے تو اسے انتہائی سخت جواب اور سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔


صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحریہ نے ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی بحریہ کے تین بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر کر امریکی بیڑے میں شامل ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر نے بتایا کہ اس دوران ایران کی جانب سے میزائلوں، ڈرونز اور کشتیوں کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی، جسے امریکی بحریہ نے ناکام بناتے ہوئے تمام میزائل فضا میں تباہ کر دیے اور جوابی کارروائی میں متعدد ایرانی کشتیاں سمندر برد کر دیں۔


صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں امریکی بحری جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے ایرانی کارروائی کو ‘معمولی مذاق’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو دنیا ایران سے اٹھنے والا ایک بہت بڑا دھماکہ دیکھتی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ جلد از جلد معاہدے پر دستخط کرے، ورنہ اسے شدید تکلیف سہنی پڑے گی۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران معاہدہ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے بہت کچھ کرنے کو تیار ہیں۔