حیدرآباد میں ملاوٹ شدہ پنیر اور ڈیری مصنوعات فروخت کرنے والے6 افراد گرفتار، پولیس کی بڑی کارروائی
یہ کارروائی مہانکالی پولیس اسٹیشن کے حدود میں فوڈ سیفٹی عہدیدار کے تعاون سے کی گئی، جس کے دوران 6 ہول سیل اور ریٹیل دکانوں پر بیک وقت چھاپے مارے گئے۔
حیدرآباد: حیدرآباد پولیس کے کمشنر ٹاسک فورس (خیرت آباد زون) نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے سکندرآباد کے گنج بازار اور مہانکالی مندر کے قریب واقع علاقوں میں چھاپہ مار کر ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری پنیر و دیگر ڈیری مصنوعات فروخت کرنے والے 6 افراد کو گرفتار کر لیا۔
یہ کارروائی مہانکالی پولیس اسٹیشن کے حدود میں فوڈ سیفٹی عہدیدار کے تعاون سے کی گئی، جس کے دوران 6 ہول سیل اور ریٹیل دکانوں پر بیک وقت چھاپے مارے گئے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں جے پال سنگھ راجپوروہت، ویبھو کولاریا، نریش کولاریا، پریم انیل ویاس، رام کشور کولاریا اور لکشمی نارائنا کولاریا شامل ہیں، جو مبینہ طور پر نامعلوم ذرائع سے بڑی مقدار میں غیر معیاری اور مضر صحت پنیر اور دیگر ڈیری مصنوعات حاصل کر کے ہوٹلوں، کیٹرنگ سروسز اور مقامی دکانوں کو فروخت کر رہے تھے۔
یہ مصنوعات مارکیٹ میں 280 روپے فی کلو کے حساب سے معیاری پنیر کے نام پر فروخت کی جا رہی تھیں۔
چھاپے کے دوران انکشاف ہوا کہ پنیر اور دیگر اشیاء کو انتہائی غیر صحت بخش ماحول میں تیار اور ذخیرہ کیا جا رہا تھا۔ مصنوعات کو کھلے پلاسٹک کور میں رکھا گیا تھا جہاں وہ گرد و غبار، مکھیوں اور دیگر آلودگی کا شکار ہو رہی تھیں، جس کے باعث یہ انسانی استعمال کے لیے خطرناک بن چکی تھیں۔
مزید یہ کہ ان مصنوعات پر نہ کوئی برانڈ نام درج تھا، نہ تیاری اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ، اور نہ ہی پیسٹ کنٹرول سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود تھا۔
پولیس نے کارروائی کے دوران تقریباً 3892 کلو ڈیری مصنوعات ضبط کیں، جن کی مجموعی مالیت 11,11,600 روپے بتائی گئی ہے۔ ضبط شدہ اشیاء میں 2572 کلو پنیر، 927 کلو کھویا، 249 کلو وائٹ کریم، 132 کلو کلاکند اور 12 کلو گھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزمان طویل عرصے سے اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے اور شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مضر صحت اشیاء سپلائی کر کے بھاری منافع کما رہے تھے۔ گرفتار ملزمان اور ضبط شدہ سامان کو مزید قانونی کارروائی کے لیے مہانکالی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ عوامی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔