تہران میں امریکہ – اسرائیل کے حملوں میں اب تک 600 افراد ہلاک
ارنا خبر رساں ایجنسی نے پیر کو تہران کی ایمرجنسی سروسز کے سربراہ محمد اسماعیل توکلی کے حوالے سے کہا، "اس دوران (تنازع شروع ہونے کے بعد سے) دارالحکومت میں 636 افراد ہلاک اور 6,848 زخمی ہو چکے ہیں۔ تہران میں تقریباً 430 مقامات پر حملے ہوئے ہیں۔"
تہران: اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تنازع شروع ہونے کے بعد سے ایران کے دارالحکومت تہران میں اب تک 600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ارنا خبر رساں ایجنسی نے پیر کو تہران کی ایمرجنسی سروسز کے سربراہ محمد اسماعیل توکلی کے حوالے سے کہا، "اس دوران (تنازع شروع ہونے کے بعد سے) دارالحکومت میں 636 افراد ہلاک اور 6,848 زخمی ہو چکے ہیں۔ تہران میں تقریباً 430 مقامات پر حملے ہوئے ہیں۔”
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایرانی نے 12 مارچ کو کہا تھا کہ ایران کے خلاف امریکہ – اسرائیل کی فوجی مہم کے نتیجے میں ایران میں 1,348 شہری ہلاک اور 17,000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ایران کے متعدد شہروں میں 28 فروری کو شروع ہونے والی اس مہم کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جان و مال کا نقصان ہوا۔
ایران نے اس کے جواب میں اسرائیلی سرزمین اور مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے لاحق خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے "قبل از وقت” حملے ضروری تھے، لیکن جلد ہی انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔
فوجی آپریشن کے پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت ہوگئی۔ اسلامی جمہوریہ نے 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا۔