مہاراشٹر میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 675 تیندوں کی موت
یہ اعداد و شمار جنوری 2021 سے فروری 2026 کے اوائل تک کے عرصے پر مشتمل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 40 فیصد اموات حادثات کے سبب ہوئیں۔ ان میں 99 تیندے سڑک حادثات میں ہلاک ہوئے جبکہ 91 تیندے کھلے کنوؤں یا پانی کے ٹینکوں میں گرنے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ناگپور: مہاراشٹرمیں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کم از کم 675 تیندوں کی موت واقع ہوئی ہے۔ یہ معلومات ریاستی محکمہ جنگلات سے معلومات کے حق 2005 (آر ٹی آئی) کے تحت حاصل کردہ اعداد و شمار میں سامنے آئی ہیں۔
یہ اعداد و شمار جنوری 2021 سے فروری 2026 کے اوائل تک کے عرصے پر مشتمل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 40 فیصد اموات حادثات کے سبب ہوئیں۔ ان میں 99 تیندے سڑک حادثات میں ہلاک ہوئے جبکہ 91 تیندے کھلے کنوؤں یا پانی کے ٹینکوں میں گرنے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
سب سے زیادہ 320 اموات (تقریباً 47 فیصد) قدرتی وجوہات کے باعث ہوئیں۔ اس کے علاوہ 30 تیندے غیر قانونی شکار کا شکار بنے، جن میں بجلی کا کرنٹ لگانا اور پھندے لگا کر شکار کرنا شامل ہے۔
محکمہ جنگلات کے مطابق ناسک اور پنے
کے فارسٹ سرکلز میں تیندوں کی اموات کی سب سے زیادہ تعداد سامنے آئی، جو ان علاقوں میں تیزی سے بڑھتی شہری توسیع اور زرعی سرگرمیوں کے باعث اس نوع کو درپیش بڑھتے خطرات کی نشاندہی کرتی ہے۔
سالانہ اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں سب سے زیادہ 167 اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ 2023 میں یہ تعداد سب سے کم یعنی 77 رہی۔
اس کے علاوہ 45 تیندوں کی اموات کو نامعلوم وجوہات کے تحت درج کیا گیا، جبکہ 31 معاملات کی تفتیش ابھی جاری ہے، جس پر جنگلی حیات کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے بعض واقعات میں غیر رپورٹ شدہ جنگلی حیات سے متعلق جرائم بھی شامل ہوں۔
ماہرینِ تحفظِ جنگلی حیات نے فوری احتیاطی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جن میں کھلے کنوؤں کو ڈھانپنا، پانی کے ٹینکوں میں جانوروں کے نکلنے کے لیے راستے (ایسکیپ ریمپس) بنانا اور شاہراہوں پر جنگلی حیات کے لیے، خاص طور پر پنے، ناسک، اور ممبئی کے درمیان واقع خطرناک راہداریوں میں محفوظ گزرگاہیں تعمیر کرنا شامل ہے۔
2026 میں اب تک تیندوں کی 10 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جس کے بعد ماہرین نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مہاراشٹر بھر میں اس نوع کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔