ووٹر لسٹوں کی نظرثانی میں مبینہ بدانتظامی پر مغربی بنگال کے 7 اہلکار معطل
کمیشن نے عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 13 سی سی کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ان افسران کو معطل کیا اور مغربی بنگال کے چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ ان کے خلاف بلا تاخیر محکمانہ کارروائی شروع کی جائے۔
نئی دہلی: الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے سلسلے میں سنگین گڑبڑی، فرائض میں غفلت اور قانونی اختیارات کے غلط استعمال کے الزام پر مغربی بنگال کے سات افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
کمیشن نے عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 13 سی سی کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ان افسران کو معطل کیا اور مغربی بنگال کے چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ ان کے خلاف بلا تاخیر محکمانہ کارروائی شروع کی جائے۔
پیر کو جاری ایک سرکاری بیان میں کمیشن نے کہا کہ “یہ کارروائی انتخابی فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں پائی گئی سنگین کوتاہیوں کے پیش نظر کی گئی ہے۔ اس طرح کی بدعنوانی انتخابی عمل کی سالمیت کو متاثر کرتی ہے اور اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔”
کمیشن نے مزید ہدایت دی ہے کہ معطل کیے گئے افسران کے متعلقہ کیڈر کنٹرولنگ حکام کی جانب سے تادیبی کارروائی شروع کی جائے۔ اس نے یہ بھی ہدایت دی کہ اسے ان کارروائیوں میں ہونے والی پیش رفت سے باخبر رکھا جائے۔
اس پیش رفت سے واقف ایک سینئر افسر نے بتایا کہ "کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ انتخاب سے متعلق فرائض میں جوابدہی سب سے اہم ہے۔ قانونی اختیارات کے کسی بھی غلط استعمال پر سخت کارروائی کی جائے گی۔”
معطل کیے گئے اہلکاروں میں ضلع مرشد آباد کے 56-شمشیر گنج اسمبلی حلقہ کے اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر، محکمہ زراعت، سیف الرحمان شامل ہیں۔