حیدرآباد

حیدرآباد میں 35 سالہ تاجر کا بہیمانہ قتل، نامعلوم حملہ آوروں نے ہتھیاروں سے حملہ کرکے جان لے لی

اطلاعات کے مطابق فاسی احمد ممبئی سے حیدرآباد واپس پہنچے تھے، جس کے کچھ ہی دیر بعد نامعلوم افراد نے ان پر حملہ کردیا۔ حملے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر عثمانیہ جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

حیدرآباد: شہر کے سنگارینی کالونی علاقے سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ کپڑے کے تاجر فاسی احمد، المعروف عامر، کو نامعلوم حملہ آوروں نے مبینہ طور پر خطرناک ہتھیاروں سے حملہ کرکے قتل کردیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

اطلاعات کے مطابق فاسی احمد ممبئی سے حیدرآباد واپس پہنچے تھے، جس کے کچھ ہی دیر بعد نامعلوم افراد نے ان پر حملہ کردیا۔ حملے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر عثمانیہ جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی اور مجلس کے رکن اسمبلی و قائد ایوان اکبر الدین اویسی کی ہدایت پر یاقوت پورہ کے رکن اسمبلی جعفر حسین میراج عثمانیہ جنرل اسپتال پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

مرحوم فاسی احمد کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کردیا گیا ہے۔ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میت کو اہل خانہ کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ مرحوم فاسی احمد اپنے پیچھے آٹھ بچوں کو چھوڑ گئے ہیں۔ واقعے کے بعد اہل خانہ شدید صدمے میں ہیں۔ مجلس کی جانب سے مرحوم کے خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے مشکل کی اس گھڑی میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

دوسری جانب مجلس کی جانب سے حکومت تلنگانہ اور حیدرآباد پولیس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ شہر میں پولیس گشت کو مزید مؤثر بنایا جائے، سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور منشیات کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے پرتشدد جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

پولیس کی جانب سے حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے کی اصل وجوہات اور حملے کے پسِ پردہ محرکات پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکیں گے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم فاسی احمد، المعروف عامر، کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ اور آٹھ بچوں کو صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین۔