ماہ رمضان المبارک کے لئے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے!، گیمس اور غیر ضروری ایپس(Apps) کواَن انسٹال کریں: مولانا ڈاکٹر سید احمد غوری نقشبندی
لہذا جو مبارک ساعات ہمیں نصیب ہورہی ہیں انہیں غنیمت جانیں اور ان سے بھرپور استفادہ کریں، کیونکہ تہذیب اخلاق اور اصلاح نفس اور تربیت کے لئے ماہ رمضان میں قدرتی انتظام ہوتا ہے۔ماہِ رمضان المبارک خدائے تعالی کی جانب سے بہترین تحفہ ہے،یہ مقدس مہینہ اپنے اندر رحمت،مغفرت اور دوزخ سے نجات کی سوغات لے کر آتا ہے۔
حیدرآباد: یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہمیں پھر ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مہینہ عطا ہورہا ہے،اگلے رمضان تک کون زندہ رہتا ہے اور کون موت کے آغوش میں چلا جائے گاکسی کو علم نہیں۔
لہذا جو مبارک ساعات ہمیں نصیب ہورہی ہیں انہیں غنیمت جانیں اور ان سے بھرپور استفادہ کریں، کیونکہ تہذیب اخلاق اور اصلاح نفس اور تربیت کے لئے ماہ رمضان میں قدرتی انتظام ہوتا ہے۔ماہِ رمضان المبارک خدائے تعالی کی جانب سے بہترین تحفہ ہے،یہ مقدس مہینہ اپنے اندر رحمت،مغفرت اور دوزخ سے نجات کی سوغات لے کر آتا ہے۔
یہ نزول قرآن کا مہینہ ہے، اس ماہ مبارک کی ایک فضیلت یہ ہے کہ اس میں فرائض کا ثواب ستر(70)درجے بڑھا دیا جاتا ہے اور نوافل کا ثواب فرض کے برابر کر دیا جاتا ہے۔ اسی ماہ مبارک میں وہ عظیم رات آتی ہے جو ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ یہ رات ایسی بابرکت ہے کہ قرآن مجید کی ایک مستقل سورت ”سورۃ القدر“ اس کی عظمت میں نازل ہوئی،لہذاہمیں صحیح معنی میں اس سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے لئے انفرادی، گھریلو اور معاشرتی اصلاح کا جامع پروگرام بنایا جائے۔ رمضان دراصل امت کے لئے احتساب،رجوع الی اللہ،صبر واستقامت کی تربیت اور اصلاح نفس کا بہترین کورس اور مخلوق کو خالق سے جوڑنے کا سنہرا موقع ہے۔ان خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر مفتی حافظ سید احمد غوری نقشبندی نائب شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ وڈائرکٹر مرکز انوار السنہ نے جامع مسجد سنی پورہ سکندرآباد وجامع مسجد حضرت بلال ؓ این۔ایس۔ کنٹہ میں قبل نماز جمعہ اپنے خطاب میں کیا۔سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے مولانا نے کہا کہ قرآنِ کریم نے روزوں کا مقصد”تقوی“ بیان فرمایا ہے
لہٰذاماہ رمضان میں ہمار ا اصل ہدف تقویٰ کا حصول ہو۔ تقویٰ صرف بھوک اور پیاس سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ نگاہ، زبان، دل اور اعمال کی حفاظت،اوامر کے امتثال اور نواہی سے اجتناب کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔
اگرماہ رمضان ملنے کے باوجود اخلاق و کردار میں تبدیلی نہ آئے تو پھر ہم نے رمضان سے کیا استفادہ کیا؟۔ڈاکٹر نقشبندی نے کہا کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل دلوں کو کینہ، حسد، بغض سے پاک کرنا ناگزیر ہے،جن سے قطع تعلق کئے ہوئے ہیں ان سے صلح صفائی کرلی جائے، آپسی رنجشوں کو ختم کیاجائے، ماتحتوں وخادموں کے لئے آسانایاں فراہم کی جائیں،رشتہ داروں سے تعلقات بحال کئے جائیں اور معافی و درگزر کو شعار بنایا جائے؛تاکہ رمضان کی برکتیں حقیقی معنوں میں نصیب ہوں۔
ماہ رمضان المبارک سے بھرپور استفادہ کے لئے پیشگی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ مرد حضرات کو چاہئے کہ پنج وقتہ نمازیں باجماعت مسجد میں اداکرنے کی کوشش کریں۔ تلاوتِ قرآن‘ روزانہ کا معمول بنائیں،تراویح کے علاوہ کم از کم ایک مرتبہ قرآن کریم کا ختم کیا جائے،سنن اور نوافل کا اہتمام کیا جائے،صدقہ و خیرات کے لئے رقم مختص کرلی جائے،لایعنی امور اور سوشل میڈیا کے منفی استعمال سے پرہیز کیا جائے۔
گیمس اور غیر ضروری ایپس(Apps) کو ان انسٹال کردیں،استغفار،ذکر اور درود شریف کی کثرت کی جائے۔دعاؤں کا خاص اہتمام کیا جائے۔ افطار اور تہجد کا وقت دعاء کی قبولیت کا ہوتاہے۔مولانا نے عوام کو اس بات کی تلقین کی کہ وہ کتاب”نصاب اہل خدمات شرعیہ“جو مجلس اشاعت العلوم جامعہ نظامیہ سے اردو اور انگریزی زبان میں شائع کی گئی ہے اس کا ضرور مطالعہ کریں،خاص طور پرروزہ کے فضائل، مفسدات صوم،روزہ کے مکروہات،تراویح،اعتکاف وغیرہ کے احکام ومسائل کو پڑھیں۔
ڈاکٹر نقشبندی نے کہا کہ رمضان المبارک کا پیغام صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرہ کی اصلاح سے متعلق ہے۔غریبوں،یتیموں،محتاجوں اور قرض داروں کی مدد، باہمی اتحاد، اور مساجد کی رونق بڑھانا یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔مولانا نے کہا کہ اگر کسی انسان سے یہ کہا جائے کہ وہ فرشتہ بن سکتا ہے تو وہ اس بات کو قبول نہیں کرے گا؛کیونکہ انسان اور فرشتہ کی حقیقت و ماہیت جداگانہ ہے۔
تاہم رمضان المبارک وہ باکرامت مہینہ ہے جو انسان کے اندر فرشتوں جیسی صفات پیدا کر دیتا ہے۔فرشتوں کے نمایاں اوصاف یہ ہیں کہ انہیں کھانے پینے کی حاجت نہیں ہوتی،ان کے کوئی ازدواجی تعلقات بھی نہیں،وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے اور ہر وقت اس کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں۔
اسی طرح روزہ دار بھی دن کے اوقات میں کھانے پینے اور دیگر خواہشات اور ازدواجی تعلقات سے خود کو روکے رکھتا ہے اور محض رضائے الٰہی کی خاطر اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پاتا ہے۔شیاطین کے مقید ہونے اور روزے کی مشقت کے باعث نفس کمزور ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں انسان گناہوں سے دور اور نیکیوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
یہ کیفیت دراصل انسان کے اندر ملکوتی اوصاف پیدا کرتی ہے، قدسی صفات اور ملکوتی اوصاف کے حامل بننے کے بعد طاغوتی صفات اور رذیلہ اوصاف سے متصف ہونا حد درجہ محرومی کی علامت ہے۔صحیح ابن حبان اور صحیح ابن خزیمہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو تین مرتبہ آمین کہا، عرض کیا گیا:یا رسول اللہ ﷺ!آپ منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو آپ نے تین مرتبہ آمین کہا،اس کا سبب کیا ہے؟۔
آپ نے ارشاد فرمایا:جبرائیل ؑ میرے پاس آئے اور کہنے لگے:جس شخص نے ماہِ رمضان پایا (اوراس نے اطاعت نہ کی اور)اس کی مغفرت نہ ہوسکی اور وہ جہنم میں چلا گیا،اور ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دور کر دے۔اے نبی کریم ﷺ آپ آمین کہیے!اس پر میں نے آمین کہا۔ پھر حضرت جبریل نے کہا:جس شخص نے ماں باپ دونوں کو پایا یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اوران کی خدمت نہ کی،ان کے ساتھ اچھا برتاؤ نہ کیا اور اسی حال میں مر گیا، وہ دوزخ میں داخل ہوگیا،اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کر دے۔
آپ آمین کہیے! تو میں نے آمین کہا۔ اور وہ شخص جس کے روبرو آپ ﷺ کا ذکر کیا گیا اور اس نے آپ پر درود نہ پڑھا اور اسی حالت میں مر گیا، وہ بھی آگ میں گیا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کر دے۔ آپ آمین کہیے! تو میں نے آمین کہا۔