مذہب
نذر کا ایک مسئلہ
پس نذر ماننے کے وقت چوں کہ بینک میں یہ رقم موجود ہی نہیں تھی؛ اس لیے نذر واجب نہیں ہوگی؛ کیونکہ ا س کا پوراہوناممکن ہی نہیں اور روزے رکھنے ضروری نہیں ہوں گے ۔
سوال:-ایک شخص کی بیوی نے یہ سمجھ کر کہ بینک میں اس کے شوہر کے جوروپیہ تھے ڈوب گئے ہوں گے، نذر مانی کہ اگر وہ روپیہ مل گئے، تو میں چارروزے رکھوں گی، بعد کو معلوم ہواکہ یہ روپئے تو پہلے ہی نکال لیے گئے تھے، تو کیااب اسے روزے رکھنا ضروری ہے؟
(محمد انس، هاشم آباد)
جواب:- جو نذر کسی خاص کام کے ساتھ مشروط ہو، اگر نذر ماننے کے بعد وہ شرط پوری ہو جائے، تو نذر کوپورا کرنا واجب ہوتا ہے:
بخلاف النذر المعلق، فإنہ لایجوز تعجیلہ قبل وجود الشرط (درمختار علی ہامش ردالمحتار: ۳؍۴۲۴)
پس نذر ماننے کے وقت چوں کہ بینک میں یہ رقم موجود ہی نہیں تھی؛ اس لیے نذر واجب نہیں ہوگی؛ کیونکہ ا س کا پوراہوناممکن ہی نہیں اور روزے رکھنے ضروری نہیں ہوں گے ۔