حیدرآباد میں فضائی آلودگی کے خطرات بڑھ گئے
شہر کے کئی مصروف ترین علاقوں جیسے پاشا میلارم، صنعت نگر، میتری ونم اور چارمینار میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیوآئی) کی سطح 200 سے 300 کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ انتہائی مضرِ صحت کے زمرہ میں آتی ہے۔
حیدرآباد: حیدرآباد میں فضائی آلودگی کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور شہر کی ہوا زہریلی ہونے لگی ہے۔ تلنگانہ کا دارالحکومت حیدرآباد ان دنوں فضائی آلودگی کی شدید لپیٹ میں ہے اور سردی کے آغاز کے ساتھ ہی شہر کے مختلف علاقوں میں ہوا کے معیار میں نمایاں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے جس نے ماہرینِ صحت اور شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
شہر کے کئی مصروف ترین علاقوں جیسے پاشا میلارم، صنعت نگر، میتری ونم اور چارمینار میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیوآئی) کی سطح 200 سے 300 کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ انتہائی مضرِ صحت کے زمرہ میں آتی ہے۔
آلودگی کی وجوہات میں گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، تعمیراتی کاموں سے اڑنے والی گرد و غبار اور سردیوں میں ہوا کی رفتار کم ہونا شامل ہے جس کی وجہ سے آلودہ ذرات فضا میں جم جاتے ہیں۔
ڈاکٹروں نے انتباہ دیا ہے کہ بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے سانس کی بیماریاں، دمہ، کھانسی اور آنکھوں میں جلن کے معاملات میں اضافہ ہو رہا ہے اسی لئے بچوں اور ضعیف افرادکو گھروں سے باہر نکلتے وقت احتیاط کا مشورہ دیا گیا ہے۔
صبح کے وقت شہر کی سڑکوں پر کہر اور دھوئیں کی ملی جلی تہہ دیکھی جا رہی ہے جس سے نہ صرف ٹریفک متاثر ہو رہی ہے بلکہ لوگوں کو سانس لینے میں بھی گھٹن محسوس ہو رہی ہے۔
انتظامیہ کے ردِ عمل کے طور پر ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ نے متعلقہ اداروں کو تعمیراتی مقامات پر پانی کا چھڑکاؤ کرنے اور کوڑا کرکٹ جلانے پر پابندی کو سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ باہر نکلتے وقت این 95ماسک کا استعمال کریں، صبح کی سیر سے پرہیز کریں جب آلودگی کی سطح سب سے زیادہ ہوتی ہے اور گھر کے اندر ہوا صاف کرنے والے پودے لگائیں۔