حیدرآباد

اویسی کا 2 کروڑ رشوت کا الزام… جیل کے اندر آخر کیا ہوا؟

اویسی نے الزام عائد کیا تھا کہ ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین کے قتل کے ملزم روڈی شیٹر کو ضمانت دلانے کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ نے مبینہ طور پر 2 کروڑ روپے رشوت لی تھی۔

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کی جانب سے چنچل گوڑہ سنٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ پر 2 کروڑ روپے رشوت لینے کے الزام کو تلنگانہ محکمہ جیل خانہ جات نے مسترد کردیا ہے۔ اویسی نے الزام عائد کیا تھا کہ ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین کے قتل کے ملزم روڈی شیٹر کو ضمانت دلانے کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ نے مبینہ طور پر 2 کروڑ روپے رشوت لی تھی۔

اویسی نے یہ بھی الزام لگایا کہ ملزم کی جیل سے رہائی کے بعد بھی جیل کا ایک عہدیدار مبینہ طور پر اس کی مدد کررہا ہے اور ملزم مزید حملوں کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ تاہم 4 اکتوبر کو جاری کردہ پریس نوٹ میں محکمہ جیل خانہ جات نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے کسی قسم کی بدعنوانی، ملی بھگت یا کسی قیدی کو خصوصی سہولت فراہم کرنے کا سوال ہی نہیں ہے۔

محکمہ نے واضح کیا کہ ضمانت دینے کا اختیار صرف متعلقہ عدالت کو حاصل ہے اور جیل حکام کا ضمانت منظور کرنے یا مسترد کرنے میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ جیل انتظامیہ صرف عدالت کی جانب سے جاری احکامات پر مقررہ قوانین اور طریقہ کار کے مطابق عمل کرتی ہے۔ محکمہ نے کہا کہ اگر الزامات کے حق میں کوئی مخصوص ثبوت موجود ہے تو اسے متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے، جس کی بنیاد پر قانون کے مطابق جانچ اور کارروائی کی جائے گی۔

محکمہ جیل خانہ جات نے جیل کے اندر قیدیوں کو غیر مجاز طور پر جمع ہونے یا ملاقاتیں کرنے کی اجازت دیے جانے کے الزام کی بھی تردید کی۔ محکمہ کے مطابق قیدیوں کو ان کی سکیورٹی درجہ بندی اور جیل کے انتظامی تقاضوں کے مطابق الگ رکھا جاتا ہے۔ جیل انتظامیہ نے کہا کہ مجرمانہ سرگرمی، دھمکی، سازش یا جیل کی سہولتوں کے غلط استعمال کی کسی بھی کوشش پر نظر رکھی جارہی ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے قیدیوں یا عملے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

محکمہ نے اس الزام کو بھی مسترد کردیا کہ کسی قیدی کو جیل کی سہولتوں کا استعمال کرتے ہوئے جیل سے باہر حملوں کی منصوبہ بندی یا رابطہ کاری کی اجازت دی جارہی ہے۔ یہ الزامات حیدرآباد میں ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین کے قتل کے بعد سامنے آئے ہیں، جنہیں مئی میں قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے ابتدا میں اس واقعہ کو ہٹ اینڈ رن کا مشتبہ معاملہ سمجھا تھا، تاہم بعد میں جانچ کے دوران اسے جان بوجھ کر کیا گیا حملہ قرار دیے جانے کے پہلو سے بھی تحقیقات کی گئیں۔