حیدرآباد

جامعۃ المؤمنات مغلپورہ میں سالانہ عربی جلسہ کامیابی سے انعقاد پذیر 58عربی عنوان پر طالبات کےخطابات سرکردہ شخصیات کی شرکت

جلسے کا آغاز ماجونی خاتون کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد غوثیہ ترنم بشریٰ نے نعتِ شریف پیش کی۔ اس موقع پر جامعہ کی طالبات، عالمات، مفتیات، مولویات اور فاضلات نے عربی زبان میں اپنے علمی و لسانی جوہر کا مظاہرہ کیا۔

حیدرآباد: جامعۃ المؤمنات مغلپورہ، حیدرآباد کے زیرِ اہتمام آج صبح 9 بجے ادارے کے کانفرنس ہال میں عظیم الشان سالانہ عربی جلسہ نہایت شاندار پیمانے پر منعقد ہوا۔ اس جلسے کی سرپرستی پیرِ طریقت مولانا سید شاہ درویش محی الدین قادری مرتضیٰ پاشاہ نے کی، جبکہ امیرِ شریعت مولانا مفتی محمد حسن الدین نقشبندی، صدر مفتی جامعۃ المؤمنات، نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،

جلسے کا آغاز ماجونی خاتون کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد غوثیہ ترنم بشریٰ نے نعتِ شریف پیش کی۔ اس موقع پر جامعہ کی طالبات، عالمات، مفتیات، مولویات اور فاضلات نے عربی زبان میں اپنے علمی و لسانی جوہر کا مظاہرہ کیا۔

پریس سیکریٹری مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کے مطابق اس سالانہ عربی جلسے میں 58 طالبات نے مختلف دینی، علمی، فکری اور سماجی موضوعات پر فصیح و بلیغ عربی میں خطابات پیش کیے۔ طالبات کے پُراثر اندازِ بیان اور عربی زبان پر عبور نے سامعین کو بے حد متاثر کیا۔

مہمانانِ خصوصی نے جامعہ کی اس علمی و لسانی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ عربی زبان میں اس نوعیت کے علمی و ادبی اجتماعات نہ صرف طالبات کی فصاحت و بلاغت کو جِلا بخشتے ہیں بلکہ ان میں علمی اعتماد، دینی شعور اور فکری بصیرت بھی پیدا کرتے ہیں۔

اس موقع پر ممتاز شخصیات میں مفتی ریحانہ الجیلانیہ، ابو حمد موسیٰ بن عبد الجلیل باحجاج، ڈاکٹر مفتی ایس ایم سراج الدین، مولانا پروفیسر ڈاکٹر محمد ذوالفقار محی الدین صدیقی، مولانا عرفان اللہ شاہ نوری، مولانا قاضی محمد وحید الدین، مولانا قطب الرحمن افتخاری، مولانا حافظ عبد القیوم (میدک)، مولانا مفتی غلام ربانی خان عطاری اور مولانا عبد الرحیم قادری شامل تھے۔

آخر میں دعا پر جلسے کا اختتام عمل میں آیا۔