اتر پردیش میں ایک اور مسلم شخص پر حملہ، نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے لوٹتے عبدالوهاب پر دن دہاڑے تشدد، آخراِس ملک کو ہوکیاگیا؟
حملہ آوروں کی تعداد پانچ سے چھ بتائی جا رہی ہے۔ ایف آئی آر میں ہریش، لاوی، بسنت، رشبھ اور آدتیہ کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم واقعے کے بعد بھی اب تک متاثرہ شخص کو انصاف ملتا نظر نہیں آ رہا، جس پر مقامی لوگوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
مظفر نگر: اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر میں ایک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک مسلم شہری پر مبینہ طور پر دن دہاڑے حملہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق عبدالوهاب نامی شخص مسجد سے نماز ادا کر کے واپس گھر جا رہے تھے کہ اسی دوران چند نوجوانوں نے انہیں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد پانچ سے چھ بتائی جا رہی ہے۔ ایف آئی آر میں ہریش، لاوی، بسنت، رشبھ اور آدتیہ کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم واقعے کے بعد بھی اب تک متاثرہ شخص کو انصاف ملتا نظر نہیں آ رہا، جس پر مقامی لوگوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ دن دہاڑے پیش آنے والا یہ واقعہ نہ صرف قانون و انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر ملک کس سمت جا رہا ہے۔
https://twitter.com/Muslim_ITCell/status/2030695602120470985
سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے تو پھر کارروائی میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔
سماجی حلقوں میں اس واقعے کو لے کر سخت ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر عام شہری خود کو محفوظ محسوس نہ کریں تو قانون کی بالادستی کا دعویٰ کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔
ناقدین یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا انتظامیہ واقعی سب کچھ دیکھنے کے باوجود خاموش ہے یا پھر قانون کی گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کی سلامتی اور قانون کی یکساں عملداری کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کب کیے جائیں گے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے واقعات پر فوری اور سخت کارروائی نہ ہوئی تو یہ صورتحال معاشرتی ہم آہنگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔