امریکہ و کینیڈا

نوریمبرگ کے پراسیکیوٹر فرینک کا 103 سال کی عمرمیں انتقال

فرینک ہنگری کا تعلق یہودی خاندان سے تھا اور وہ ہارورڈ سے تعلیم یافتہ نیویارک کے وکیل تھے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد نازی ڈیتھ اسکواڈ کے 22 کمانڈروں کو پھانسی دی تھی۔

واشنگٹن: نازی جنگی مجرموں کے ایک گروپ کے نوریمبرگ ٹرائلز کے آخری زندہ بچ جانے والے پراسیکیوٹر امریکی وکیل بین فرینک کا 103 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔

فرینک ہنگری کا تعلق یہودی خاندان سے تھا اور وہ ہارورڈ سے تعلیم یافتہ نیویارک کے وکیل تھے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد نازی ڈیتھ اسکواڈ کے 22 کمانڈروں کو پھانسی دی تھی۔ وہ 11 مارچ کو 103 سال کے ہو ئے تھے۔ ان کے بیٹے نے ہفتے کے روز این بی سی نیوز کو اپنے والد کی موت کی تصدیق کی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ فرینک کا جمعہ کو فلوریڈا کے بائنٹن بیچ میں ایک معاون رہائشی مرکز میں انتقال ہو گیا۔ اخبار نے کہا کہ ان کےلواحقین میں ایک بیٹا، تین بیٹیاں اور تین پوتے پوتیاں ہیں۔ ان کی اہلیہ کا انتقال 2019 میں ہوا۔

این بی سی نیوز کے مطابق، نیورمبرگ ٹرائلز (نومبر 1945 اور اکتوبر 1946 کے درمیان منعقد ہوئے) کے وقت مسٹر فرینک کی عمر 27 سال تھی، اور بعد میں انہوں نے سروائیورس کے لیے معاوضہ حاصل کرنے اور دی ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔

a3w
a3w