اے پی کی وزیر نے ہیلمٹ نہ پہننے پر نوجوان کی سرزنش کی۔ماں کو بھی فون کرکے ذمہ داری کا احساس دلایا
پینوکونڈا میں جب وہ عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لئے خود ریلی میں شرکت کر رہی تھیں تو ان کی نظر سومندے پلی سے تعلق رکھنے والے سائی نامی نوجوان پر پڑی جو بغیر ہیلمٹ کے بائیک چلا رہا تھا۔
حیدرآباد: اے پی کے سری ستیہ سائی ضلع میں روڈسیفٹی ویک کے سلسلہ میں نکالی گئی بائیک ریلی کے دوران آندھرا پردیش کی وزیر سویتا کا ایک دلچسپ اور سبق آموز انداز سامنے آیا۔
پینوکونڈا میں جب وہ عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لئے خود ریلی میں شرکت کر رہی تھیں تو ان کی نظر سومندے پلی سے تعلق رکھنے والے سائی نامی نوجوان پر پڑی جو بغیر ہیلمٹ کے بائیک چلا رہا تھا۔
وزیر سویتا نے نوجوان کو روک کر اس کی بائیک کی قیمت پوچھی، جس پر نوجوان نے بتایا کہ بائیک کی قیمت ڈھائی لاکھ روپے ہے۔ اس پر وزیر نے فوراً سوال کیا کہ ڈھائی لاکھ کی بائیک تو ٹھیک ہے لیکن تمہارا ہیلمٹ کہاں ہے؟ انہوں نے صرف نوجوان کو ڈانٹنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ وہیں سے اس کی ماں کو فون لگا دیا۔
وزیر نے ان کی ماں سے کہا کہ قیمتی بائیک دلانا ہی کافی نہیں بلکہ بچوں کو ہیلمٹ پہننے کی تاکید کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر دوبارہ بغیر ہیلمٹ بائیک چلائی گئی تو گاڑی ضبط کر لی جائے گی۔
وزیر سویتا نے موقع پر ہی نوجوان کے لئے ہیلمٹ منگوایا اور خود اسے پہنایا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ سفر کے دوران ہیلمٹ کا استعمال لازمی کریں کیونکہ انسانی جان کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔