حیدرآباد

گورنر کوٹہ سے ایم ایل سی بننے والے عامر علی خان اور کودنڈا رام کی تقرری منسوخ ،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اس معاملے پر باضابطہ احکامات جلد جاری کیے جائیں گے۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ایم ایل سیز کی تقرریاں معطل ہو گئی ہیں اور معاملہ آئندہ عدالتی احکامات تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔

حیدرآباد: ایم ایل سی تقرریوں کے معاملے میں سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے روز اہم فیصلہ سناتے ہوئے گورنر کوٹے سے تقرر پانے والے کودنڈا رام اور عامر علی خان کی تقرریوں پر حکمِ امتناع جاری کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ریونت ریڈی حکومت نے دونوں کو گورنر کوٹے کے تحت ایم ایل سیز کے طور پر نامزد کیا تھا، تاہم اس فیصلے کو اُس وقت کے بی آر ایس امیدوار داسوجو شراون اور ستیہ نارائنا نے چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

متعلقہ خبریں
کودنڈا رام اور عامر علی خان کے حلف لینے پر امتناع میں توسیع
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطالعہ کیلئے کمیٹی تشکیل
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام

درخواستوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دونوں کی ایم ایل سی حیثیت اور ان کی حلف برداری کے عمل کو غلط قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ ماضی میں بھی ان کے انتخاب پر حکمِ امتناع جاری کیا گیا تھا اور آئندہ احکامات کی روشنی میں ہی ان کا انتخاب یا تقرری برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ عدالت نے سابقہ عبوری احکامات میں ترمیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ عبوری حکم کے بعد حلف برداری کرنا درست نہیں تھا۔

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اس معاملے پر باضابطہ احکامات جلد جاری کیے جائیں گے۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ایم ایل سیز کی تقرریاں معطل ہو گئی ہیں اور معاملہ آئندہ عدالتی احکامات تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔