ایم ایس ایجوکیشن کے فارغ ڈاکٹرز اور انجینیئرس قابل تحسین اور انسانی خدمت کے جذبہ سے سرشار
"محفل عصرانہ " منفرد ومثالی - جناب انور احمد اور پروفیسر مسعود احمد کا خطاب -شعری نشست میں ڈاکٹر فاروق شکیل اور دیگر شعرا کا نذرانہ عقیدت
"محفل عصرانہ ” منفرد ومثالی – جناب انور احمد اور پروفیسر مسعود احمد کا خطاب -شعری نشست میں ڈاکٹر فاروق شکیل اور دیگر شعرا کا نذرانہ عقیدت
حیدرآباد : ایم ایس ایجوکیشن اکیڈمی کے مینجنگ ڈائریکٹر جناب انور احمد نے کہا کہ مستقبل کے چیلنجس کا سامنا کرنے کے لیے اقلیتوں بالخصوص مسلم طلبہ و طالبات کو تعلیم کے میدان میں زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کرنی ہوگی مسلم طلبہ و طالبات کو چاہیے کہ وہ مسابقتی امتحان میں نہ صرف شریک ہوں بلکہ اعلی سے اعلی رینک حاصل کرتے ہوئے کامیابی کی بلندیوں کو چھو لیں
ایم ایس ایجوکیشن اکیڈمی اس کام کو بحسن خوبی انجام دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے ایم ایس ایجوکیشن اکیڈمی کو نمایاں کامیابیاں بھی حاصل ہو رہی ہیں ایم ایس ایجوکیشن اکیڈمی کے قیام سے اب تک ہزاروں طلبہ و طالبات نہ صرف فارغ ہوئے ہیں بلکہ اعلی عہدوں پر فائز بھی ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان احمد حیدرآباد کے زیر اہتمام رباط محبان اردو علی عبداللہ انکلیوملک پیٹ میں پروفیسر محمد مسعود احمد کی جانب سے اہتمام کردہ ہفتہ واری محفل "عصرانہ ‘سے مخاطب کرتے ہوئے کیا علم کی اہمیت کے موضوع پر منعقدہ اس نشست سے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے جناب انور احمد نے کہا کہ محفل عصرانہ ایک منفرد اور مثالی محفل ہے اس محفل کا مقصد ایک سوچ اور فکر کے ساتھ ساتھ شعراء کرام کو بہتر پلاٹ فارم مہیا کرنا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ 10- اگست 1991 ء کو ہماری ایک مختصر سی جماعت نے معیاری تعلیم کا منصوبہ بنایا اور ہمارا مقصد مسلم طلبہ و طالبات کو تعلیم کے میدان میں قومی سطح پر بلند کرنا تھا انہوں نے بتایا کہ اب تک ایم ایس ایجوکیشن نے 216 ڈاکٹرز ملک و قوم کو دیے ہیں جو محض انسانی خدمت کے جذبےسے سرشار اور اپنے میں قرآن وہ حدیث کی تعلیم کو معیار بناتے ہوئے خدمت انجام دے رہے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں انجینیئرز بھی ہم نے ملک کو دیے ہیں اس کے علاوہ تین ہزار ایسے بچے ہیں جو یتیم ہیں جن سے صرف 33 فیصد فیس لی جاتی ہے
انہوں نے بتایا کہ ہم نے قومی سطح کا امتحان یو پی ایس سی کے لیے بچوں کو تیار کیا ہے ہم بچوں کی صلاحیتوں کو ڈھونڈتے اور ان کو روشنی دیتے ہیں یہ محض اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے ایم ایس ایجوکیشن سے اب تک2 آئی اے ایس کے علاوہ ایک آئی پی ایس اور ایک آئی ڈی ایس تیار ہوا ہے جو قابل فخر بات ہے
ایم ایس ایجوکیشن اکاڈمی قوم کے درد کو بہتر انداز میں محسوس کرتی ہے انہوں نے کہا کہ کالجس کے علاوہ ہم کو لائبریری سے استفادہ کرنے کی سخت ضرورت ہے افسوس اس بات کا ہے کہ آج کسی بھی لائبریری میں اردو کا قاری کہیں کہیں نظرنہیں آتا ہے اس پر سب کو غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے اور لائبریریوں کو اردو قارین سے آباد کرنا وقت کا تقاضا ہے داعی محفل پروفیسر محمد مسعود احمد نے کہا کہ اسلام میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور اسی مناسبت سے آج کی یہ محفل تعلیم کی اہمیت پر منعقد کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ محفل عصرانہ پروگرام ‘شعراء کرام اور ادیب حضرات کے تعاون سے بحسن خوبی انجام پا رہا ہے
انہوں نے ایم ایس ایجوکیشن اکیڈمی کی جانب سے عالم ‘مفتی’ مؤذن اور امام صاحبان کے بچوں کو تعلیمی فیس میں 25 تا 50 فیصد رعایت کو ایک انتہائی مستحسن اور قابل تقلید اقدام قرار دیا انہوں نے کہا کہ ایم ایس ایجوکیشن اکیڈمی کی جانب سے منتخب اساتذہ کو عمرہ کے لیے بھی روانہ کیا جاتا ہے ایسی مثال ملک بھر میں ہمیں دیکھنے کو نہیں ملتی پروفیسر مسعود احمد نے مزید کہا کہ زندگی کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ ہم اپنے شروع کردہ کام کو ادھورے نہ چھوڑیں ہر آدمی کو زندگی میں اپنے اپنے حساب سے مصروف عمل رہنا چاہیے
انہوں نے کہا کہ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ زندہ رہے تو دوبارہ ملیں گے مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ ملیں گے تو زندہ رہیں گے جناب منور حسین صدر بزم احمد حسین نے محفل عصرانہ کی ستائش کی اور کہا کہ یہ محفل اپنے میں ایک خاص انداز اور خاص جذبہ رکھتی ہے اسی لیے اس محفل میں شعراء کرام دور دور سے بھی تشریف لاتے ہیں اور اپنے سنجیدہ اور مزاحیہ کلام سے سبھی کو محظوظ کرتے ہیں انہوں نے اس سلسلے میں پروفیسر مسعود احمد کو دلی مبارکباد بھی پیش کی
جناب سلیمان صدیقی اعتبار نے کہا کہ شعرا کرام کے کلام جو دب چکے تھے ‘پروفیسر مسعود احمد نے ان کو محفل عصرانہ کے ذریعے ایک نئی طاقت بخشی ہے کنوینرس جناب لطیف الدین لطیف اور جناب محمد حسام الدین ریاض نے کاروائی چلائی صدر مشاعرہ مخدوم ایوارڈ یافتہ شاعر ڈاکٹر فاروق شکیل کے علاوہ جناب فرید سحر’ پروفیسر محمد مسعود احمد’ جناب کلیم شیخ ‘جناب نجیب احمد نجیب ‘جناب معراج صدیقی ‘جناب لطیف الدین لطیف’ جناب ثنا اللہ انصاری وصفی ‘جناب سہیل عظیم اور جناب سلیمان صدیقی اعتبار نے اپنا کلام سنایا حافظ محمد معید الدین ماجد کے دو فرزندان حافظ محمد نعمان الدین اور حافظ محمد سفیان الدین جنہوں نے ادارہ الکہف ریاض سعودی عرب سے حفظ قرآن کی تکمیل کی اس مسرت میں ان دونوں حفاظ کرام کی گل پوشی اور شال پوشی کی گئی علاوہ ازیں جناب انور احمد کی بھی شال پوشی کی گئی حافظ محمد نعمان الدین کی امامت میں شعراء کرام نے نماز مغرب با جماعت ادا کی جناب محمد حسام الدین ریاض کے شکریہ پر آئندہ کے لیے اس محفل کا اختتام عمل میں آیا شہر کے ذی اثر اصحاب ڈاکٹر ناظم علی جناب شکیل وصفی ‘جناب ارشاد سہیل’ جناب مجتبیٰ عابدی ‘جناب محمد عبدالصبور’جناب اسماعیل احمد’ جناب ریاض محمد(نائس کمپیوٹر) اور دیگر معززین نے شرکت کی