تبریز اور ستلج نے منور رانا اور راحت اندوری کی یاد تازہ کردی
حیدرآباد میں جشن آزادی مشاعرہ کوی سمیلن کا کامیاب انعقاد
حیدرآباد میں جشن آزادی مشاعرہ کوی سمیلن کا کامیاب انعقاد
حیدرآباد : تبریز نے منور رانا اور ستلج نے راحت اندوری کی یاد تازہ کردی ۔ جب انہوںنے جشن آزادی مشاعرہ اور کوی سمیلن میں ان دو مرحوم شاعر وں کے انداز میں کلام پڑھا۔ایس آر زیڈ انٹر پرائزز انڈیا پرائیوٹ لمیٹیڈ کے زیر اہتمام کنگس کراؤن کنونشن میں منعقدہ جشن آزادی مشاعرے میں منور رانا مرحوم کے فرزند تبریز اور راحت اندوری کے فرزند ستلج نے حالات حاضرہ اور سلگتے مسائل پر اپنے والد کے انداز میں کلام پڑھا تو حیدرآباد کے ادبی ذوق کے رکھنے والے ارباب بے اختیار ان نوجوان شاعروں کو داد دینے کے لئے مجبور ہوگئے۔
اس مشاعرے میں عادل رشید ، پرویز اختر ، عارف سیفی، مانیکا دوبے، ہیمانشی بابرا، جہاز دیوبندی، جہانگیر لکھنوی، شہزان خان شہزان، فیض جنگ اور ثنائ کے علاوہ مقامی شاعر سردار سلیم نے اپنے کلام سے محظوظ کیا۔
ندیم فرّخ نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔کنونشن میں لگ بھگ پانچ ہزار افراد موجود تھے جبکہ لان میں ایل ای ڈی اسکرین پر مشاعرہ دیکھنے والے بیشمار لوگ موجود تھے۔ مشاعرہ گاہ میں بک اسٹال بھی قائم کیا گیا تھا۔ جہاں ادبی ذوق رکھنے والوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔
جشن اردو دبئی کے سید فرحان واسطی بزم دوحہ قطر کے شہاب الدین احمد ، بارہ بنکی کے پرویز احمد، پٹنہ کے خورشید احمد، سانجھی وراثت نے اعزازی مہمان کی حیثیت سے مشاعرے میں شرکت کی۔جناب علی مسقطی ، سید منور، عطائ اللہ شریف، رضوان شریف، ایس اے منان عامر بیگ، محترمہ شمیم فاطمہ کو اس موقع پر تہنیت پیش کی گئی۔ قاری عبد الرحمن نے مشاعرے کی کامیابی پر ارباب ذوق سے اظہار تشکر کیا۔