ایشیاء

عمران خان کی جیل میں موت کا دعویٰ، پاکستان میں ہلچل!

عمران خان کی قید اور صحت کی صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی کانگریس کے 13 ارکان نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو خط لکھ کر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی حراست کے حالات پر پاکستان سے بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے۔

اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی صحت اور جیل میں موجودگی سے متعلق ایک پاکستانی صحافی کے دعوے نے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کردی ہے۔ صحافی وجاہت سعید خان نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی جیل میں ہی موت ہوچکی ہو سکتی ہے۔ تاہم اس دعوے کی اب تک کسی سرکاری یا قابلِ اعتماد آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

وجاہت سعید خان کے مطابق راولپنڈی میں فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز میں موجود تین سینئر فوجی افسران کا خیال ہے کہ عمران خان اب زندہ نہیں ہیں۔ تاہم صحافی نے خود بھی واضح کیا ہے کہ یہ اطلاع غیر مصدقہ ہے اور جن فوجی افسران کا حوالہ دیا گیا ہے، انہوں نے بھی عمران خان کی موت کو براہِ راست نہیں دیکھا۔

عمران خان اگست 2023 سے جیل میں قید ہیں اور اس وقت 14 سال کی قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کی صحت کے حوالے سے ان کے اہل خانہ، وکلا اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما پہلے ہی کئی مرتبہ تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ پارٹی کا الزام ہے کہ عمران خان سے ملاقات کی متعدد کوششوں کے باوجود انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ پاکستان تحریک انصاف نے ان کا آزادانہ طبی معائنہ کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

عمران خان کی جیل میں موت سے متعلق اس سے قبل بھی افواہیں سامنے آچکی ہیں۔ گزشتہ سال 2 دسمبر کو ان کی بہن عظمیٰ خانم نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کے بعد بتایا تھا کہ عمران خان جسمانی طور پر صحت مند ہیں، تاہم انہیں مبینہ طور پر قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے خبردار کیا ہے کہ اگر عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تو بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے 20 لاکھ سے زائد کارکن اور حامی سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ نوجوانوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے اور اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو اسے قابو کرنا حکام کے لیے مشکل ہوسکتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب بڑے لانگ مارچ کا اعلان بھی کیا ہے۔

پارٹی رہنما کے مطابق اگر اس سے پہلے عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تو پہلے سپریم کورٹ اور پھر اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کیا جائے گا، جس کے بعد احتجاج کو ملک کے دیگر حصوں تک پھیلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

عمران خان کی قید اور صحت کی صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی کانگریس کے 13 ارکان نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو خط لکھ کر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی حراست کے حالات پر پاکستان سے بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے۔

خط میں ان دعوؤں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ عمران خان کو روزانہ تقریباً 23 گھنٹے تک قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی دائیں آنکھ کو شدید نقصان پہنچنے اور ایک وکیل کی جانب سے ان کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہونے کے دعوے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

تاہم اب تک عمران خان کی موت کی کوئی سرکاری تصدیق یا قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ اس لیے ان کی موت سے متعلق سامنے آنے والے دعوے فی الحال غیر مصدقہ ہیں۔

عمران خان سے ملاقات پر مبینہ پابندیوں، ان کی صحت کے حوالے سے بڑھتی تشویش، موت سے متعلق غیر مصدقہ دعووں اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بڑے احتجاج کی دھمکیوں کے باعث ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔