دہلی

دہلی کے کئی علاقوں میں ‘اے کیو آئی’ 400 سے اوپر، کم از کم درجۂ حرارت 6.3 ڈگری

دارالحکومت دہلی میں اتوار کے روز آلودگی کی سطح بڑھنے کی وجہ سے فضائی معیار اشاریہ (اے کیو آئی) 'انتہائی خراب' درجے میں پہنچ گیا۔ اس کے سبب بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں اتوار کے روز آلودگی کی سطح بڑھنے کی وجہ سے فضائی معیار اشاریہ (اے کیو آئی) ‘انتہائی خراب’ درجے میں پہنچ گیا۔ اس کے سبب بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
دہلی میں فضائی آلودگی، اسکول 18 نومبر تک بند رہیں گے
آتشبازی پر سال بھر امتناع ضروری: سپریم کورٹ
اروند کجریوال،سرکاری قیامگاہ سے نئے بنگلے میں منتقل
کجریوال چند ہفتوں میں سرکاری بنگلہ خالی کردیں گے
اسکول جانے سے بچنے کی خاطر بم کی دھمکی، طالب ِ علم زیر حراست

مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے اعداد و شمار کے مطابق شہر کا مجموعی اے کیو آئی 385 رہا۔ کئی علاقوں میں آلودگی کی سطح تشویشناک رہی، جن میں آنند وہار ایک بار پھر 445 کے ساتھ سر فہرست رہا۔ وزیرپور 437 کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ جہاںگیرپوری اور نریلا میں اے کیو آئی کی سطح بالترتیب 433 اور 435 رہی۔

بوانا میں 423، آر کے پورم میں 414، دوارکا میں 401 اور روہنی میں تقریباً 429 درج کیا گیا۔ علی پور (385) اور آیا نگر (344) جیسے دیگر علاقے بھی انتہائی آلودہ رہے۔


محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے بتایا کہ صبح 8:30 بجے کم از کم درجۂ حرارت 6.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 21 ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہنے کی توقع ہے۔ صبح کے ابتدائی اوقات میں حدِ نگاہ تیزی سے کم ہو گئی، کیونکہ گھنے کہرے نے دارالحکومت کے بڑے حصے کو اپنی زد میں لے لیا تھا۔


صفدرجنگ میں صبح آٹھ بجے صرف 100 میٹر اور پالم میں تقریباً 500 میٹر حدِ نگاہ درج کی گئی، جس کے باعث کئی علاقوں میں صبح کی معمول کی آمدورفت متاثر ہوئی۔قابلِ ذکر ہے کہ مرکز کے فضائی معیار پینل نے بدھ کے روز آلودگی کی سطح میں معمولی بہتری کے بعدجب اے کیو آئی ‘انتہائی خراب’ سے ‘خراب’ درجے میں آ گیا تھا گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان (گریپ) کے مرحلہ چار کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا ۔