حیدرآباد

141 ارکان پارلیمنٹ کی معطلی منسوخ کرنے اسد اویسی کا مطالبہ

پارلیمنٹ میں بی جے پی کی اکثریت ہے اس لئے اپوزیشن ارکان کی آواز اور توجہ دہانی کو نظر انداز کردیا جارہا ہے۔ پلے کارڈس بتانے اور ایوان میں نعرے لگانے پر لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے جملہ141 ارکان کو معطل کیا گیا ہے۔

حیدرآباد: پارلیمنٹ کو بی جے پی چیتن بیٹھک کی طرح نہیں چلایا جاسکتا۔کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے  141 ارکان پارلیمنٹ کی معطلی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
اردو جرنلسٹس فیڈریشن کا ایوارڈ فنکشن، علیم الدین کو فوٹو گرافی میں نمایاں خدمات پر اعزاز
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ کو معطل کردیا جائے یا اخراج عمل میں لایا جائے تو پھر کس طرح جمہوریت باقی رہے گی۔ 141 ارکان پارلیمنٹ کو معطل کردیا گیا ہے۔صدر مجلس نے کہا ہے کہ ان کی معطلی کو فوری منسوخ کیا جانا چاہئے۔

پارلیمنٹ میں بی جے پی کی اکثریت ہے اس لئے اپوزیشن ارکان کی آواز اور توجہ دہانی کو نظر انداز کردیا جارہا ہے۔ پلے کارڈس بتانے اور ایوان میں نعرے لگانے پر لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے جملہ141 ارکان کو معطل کیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ایوان کی کارروائی میں خلل پیدا کرنے پر معطل کیا گیا ہے۔منگل کو 49 لوک سبھا ارکان کی معطلی عمل میں آئی۔انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے سیکوریٹی کوتاہی کے تعلق سے وزیر داخلہ سے بیان کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔