30 ووٹروں کے نام حذف کرانے کی کوشش؟ مشیرآباد میں بی جے پی بوتھ ایجنٹ(بی ایل اے)کے خلاف ایف آئی آر
حیدرآباد کے مشیرآباد اسمبلی حلقہ میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 کے مبینہ غلط استعمال کے معاملے میں پولیس نے بی جے پی کے ایک بوتھ لیول ایجنٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔
حیدرآباد کے مشیرآباد اسمبلی حلقہ میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 کے مبینہ غلط استعمال کے معاملے میں پولیس نے بی جے پی کے ایک بوتھ لیول ایجنٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ یہ کارروائی 57 مشیرآباد اسمبلی حلقہ کے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر ٹی پروین کمار کی شکایت پر کی گئی ہے۔
شکایت کے مطابق بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹ ایس بال چندر نے 28 ستمبر 2026 کو چکّڑپلی کے سوریہ نگر میں واقع پولنگ اسٹیشن نمبر 210 پر 30 پہلے سے ڈیجیٹل طور پر پرنٹ کیے گئے فارم 7 پیش کرنے کی کوشش کی۔ الزام ہے کہ ان فارموں کے ذریعے ایسے ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کی کوشش کی گئی جن کا بی ایل اے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
الیکشن عہدیداروں کے مطابق بوتھ لیول افسران اور سپروائزرز نے مناسب وجہ اور ضروری بنیاد کے بغیر اتنی بڑی تعداد میں فارم قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد بی ایل اے مبینہ طور پر فارم وہیں چھوڑ کر چلا گیا۔
بعد میں 30 ستمبر اور یکم اکتوبر کو الیکشن عہدیداروں نے مشترکہ طور پر فیلڈ ویری فکیشن کی۔ جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ فارم 7 میں درج تمام 30 ووٹر اپنے متعلقہ پتوں پر رہائش پذیر ہیں۔ اس کے بعد ان ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواستیں غیر درست قرار دی گئیں۔
پولیس نے اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 217 اور 318 کی ذیلی دفعہ 2 کے علاوہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 31 کے تحت کیس درج کیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات چکّڑپلی پولیس اسٹیشن کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب تلنگانہ کانگریس کے ایک وفد نے حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سجنار سے ملاقات کرکے فارم 7 کے معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی الیکشن کمیشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین پی راجیش نے کہا کہ کانگریس نے اس معاملے پر جو خدشات ظاہر کیے تھے، الیکشن کمیشن کی جانچ کے بعد وہ درست ثابت ہوئے ہیں اور اب ایف آئی آر بھی درج ہوگئی ہے۔
پی راجیش نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ صرف بی ایل اے تک محدود رہنے کے بجائے ان لوگوں کا بھی پتہ لگایا جائے جو مبینہ طور پر پہلے سے پرنٹ کیے گئے فارم 7 کی پرنٹنگ، ووٹروں کے ڈیٹا کو جمع کرنے اور ان فارموں کی فراہمی میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی ایل اے صرف رابطے کا ذریعہ ہوسکتا ہے، اس لیے پولیس کو معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کرتے ہوئے دیگر ممکنہ ملزمین کا بھی پتہ لگانا چاہیے۔