قانونی مشاورتی کالمقومی

ایک سال سے FIR کیلئے بھٹک رہے ہیں؟ پولیس افسر کے خلاف کیس درج کرانے کا راستہ جانیں

اگر آپ کو کسی بھی پولیس آفیسر کے جرم کے خلاف میں شکایت یا کیس درج کروانا ہے تو پولیس اسٹیشن میں تو کوئی بھی آپ کی درخواست کو قبول نہیں کرے گا لہٰذا آپ کو چاہئے کہ آپ درخواست کی ایک کاپی رجسٹرڈ پوسٹ کے ذریعے شہر ہوتو ڈپٹی کمشنر آف پولیس اور ضلع ہوتو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو روانہ کریں۔

سوال : میں ایک پولیس آفیسر کے خلاف میں کیس کے اندراج کے لئے ایک سال سے کوشش کر رہا ہوں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج رجسٹر نہیں ہوئی ہے۔ مجھ کو یہ بھی مشورہ ملا ہے کہ پولیس آفیسر کے خلاف کیس کے اندراج کے لئے پہلے حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت ہوگی۔ میں کس طرح سے ایک پولیس آفیسر کے خلاف ان کی غلطیوں پر کیس درج کروا سکتا ہوں۔ اس سلسلہ میں مجھے تفصیلات بتائیں تو آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔

جواب: اگر آپ کو کسی بھی پولیس آفیسر کے جرم کے خلاف میں شکایت یا کیس درج کروانا ہے تو پولیس اسٹیشن میں تو کوئی بھی آپ کی درخواست کو قبول نہیں کرے گا لہٰذا آپ کو چاہئے کہ آپ درخواست کی ایک کاپی رجسٹرڈ پوسٹ کے ذریعے شہر ہوتو ڈپٹی کمشنر آف پولیس اور ضلع ہوتو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو روانہ کریں۔

اس پوسٹل رسید اور پوسٹل اکنالجمنٹ کی اساس پر آپ متعلقہ عدالت میں بھی ایک درخواست داخل کر سکتے ہیں۔ اس درخواست کو پہلے 156 سب سیکشن سی آر پی سی کی درخواست کہا جاتا تھا لیکن اب اس کو173 سب سیکشن تھری بی این ایس ایس کی درخواست کہا جا رہا ہے۔ اس کو پرائیویٹ کمپلینٹ بھی کہتے ہیں جو آپ کو عدالت میں داخل کرنی پڑتی ہے۔

آپ کو عدالت کے ذریعہ ایف آئی آر کے اندراج کا تقاضا، عدالت کے ذریعہ ایف آئی آر کرانے کے لئے پرائیویٹ کمپلینٹ ڈالنے یا کورٹ کے ذریعہ سے کوئی بھی آرڈر پاس کرانے کے لئے ریاستی حکومت سے کسی بھی قسم کی پرمیشن کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت سے پرمیشن کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب تحقیقات ہونے کے بعد میں چارج شیٹ داخل کی جاتی ہے۔

کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف چارج شیٹ فائل کرنے کے لئے حکومت سے اجازت لینا پڑتا ہے اور سیکشن 218 بی این ایس ایس میں اس کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ حکومت سے اجازت لے کر کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جاسکتی ہے۔ اس خصوص میں آپ کو تین اہم چیزوں کو ذہن نشین رکھنا چاہئے۔

اگر آپ کوئی بھی سرکاری ملازم کے خلاف میں شکایت درج کروانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس یا ڈپٹی کمشنر آف پولیس سطح کے عہدہ دار کو درخواست روانہ کرنی ہوگی۔ اس کے بعد عدالت میں پرائیویٹ کمپلینٹ فائل کریں پھرایف آئی آر درج کروائیں۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد میں جو چارج شیٹ ہوگی۔

آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو بھی تحقیقا تی آفیسر ہے وہ حکومت سے اجازت حاصل کرتے ہوئے چارج شیٹ داخل کرے۔عدالتوں میں جب اس طرح کے ایف آئی آر سرکاری ملازمین بالخصوص پولیس عہدہ داروں کے خلاف میں رجسٹر ہوئیں تو ایف آئی آر کے معاملات کو ہائی کورٹ کی طرف سے کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔ جب یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تو سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے لئے حکومت سے کسی بھی قسم کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔