مہاراشٹرا

اورنگ آباد میونسپل انتخابات 2026: مجلس اتحاد المسلمین کو ملی بڑی کامیابی

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) نے اورنگ آباد (چھترپتی سمبھاجی نگر) میونسپل کارپوریشن (CSMC) کے انتخابات 2026 میں ایک بڑی اور فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھر کر شہر کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) نے اورنگ آباد (چھترپتی سمبھاجی نگر) میونسپل کارپوریشن (CSMC) کے انتخابات 2026 میں ایک بڑی اور فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھر کر شہر کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ انتخابی نتائج نے شہر کے سیاسی منظرنامے میں واضح تقسیم کو ظاہر کر دیا ہے، جہاں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔

متعلقہ خبریں
رکن اسمبلی ماجد حسین اور فیروز خان کے خلاف کارروائی کا انتباہ
اورنگ آباد میں قرآن فہمی پروگرام کے تحت ’’تدریس مع اسلامی نکات‘‘ سمینار
"Excuse me” کہنا پڑا مہنگ ،ماں اور بچہ تشدد کا شکار
مہاراشٹرا میں 10 ہزار کروڑ کا ہائی وے اسکام، کانگریس کا الزام (ویڈیو)
مہاراشٹرا اسٹیٹ اِسکلس یونیورسٹی رتن ٹاٹا سے موسوم

115 وارڈز سے موصول ہونے والے تازہ رجحانات کے مطابق مجلس اتحاد المسلمین نے 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جس کے بعد وہ دیگر تمام اپوزیشن جماعتوں سے آگے نکل گئی ہے اور بلدیاتی سیاست میں اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین ممبئی میونسپل کارپوریشن کے دو وارڈز میں بھی سبقت حاصل کیے ہوئے ہے، جو اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت ہے۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 20 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، تاہم وہ اب بھی اکثریت کے ہدف سے خاصی دور ہے۔ شیو سینا 18 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ میونسپل کارپوریشن میں کسی بھی جماعت کو حکومت سازی کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔

ان نتائج کے بعد چھترپتی سمبھاجی نگر میں ایک معلق ایوان (ہنگ اسمبلی) کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جہاں آئندہ دنوں میں سیاسی جوڑ توڑ اور اتحاد اہم کردار ادا کریں گے۔ مجلس اتحاد المسلمین کی مضبوط کارکردگی نے بلدیاتی سیاست میں اسے ایک اہم اور فیصلہ کن فریق بنا دیا ہے، جس پر تمام جماعتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔