جرائم و حادثات

حیدرآبادمیں بنگلہ دیشی خاتون گرفتار، جسم فروشی میں ملوث ہونے کا الزام

بیرونی شہری کے شہر میں غیر مجاز قیام کی خبر اس وقت منظر عام پر آئی جبکہ بنگلہ دیشی خاتون‘ جوڑے کو بتائے بغیر ایک گاہک کے ساتھ چلی گئی جس کے نتیجہ میں ان دونوں میں لڑائی ہوگئی۔

حیدرآباد: حیدرآباد میں پولیس نے ایک بنگلہ دیشی خاتون کو گرفتار کرلیا۔ جس پر غیر مجاز طریقہ سے ہندوستان میں داخل ہونے اور جسم فروشی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ پولیس نے اس خاتون کو پناہ دینے پر اور اسے جسم فروشی کے لئے استعمال کرنے پر ایک جوڑے کو بھی گرفتار کرلیا۔

متعلقہ خبریں
تحصیلدار رشوت قبول کرتے ہوئے گرفتار
لون ایپ کے ایجنٹس کی ہراسانی، ایک شخص نے خودکشی کرلی
شعبہ لائف سائنسس کیلئے50 ہزار گریجویٹس کو ہنر مند بنانے کا ہدف: سریدھر بابو
لوک سبھا الیکشن: ضابطہ اخلاق بہت جلد نافذ ہوگا: مرکزی وزیر کشن ریڈی
حیدرآباد میں نومولود لڑکا کچرا کنڈی میں دستیاب

 22 سالہ بنگلہ دیشی خاتون‘ 2 ماہ قبل‘ غیر قانونی طریقہ سے ہندوستان پہونچی تھی اور وہ کلکتہ کے راستہ حیدرآباد آئی اور یہ خاتون حیدرآباد کے چندرائن گٹہ علاقہ کے ایک مکان میں مقیم تھی۔

 بیرونی شہری کے شہر میں غیر مجاز قیام کی خبر اس وقت منظر عام پر آئی جبکہ بنگلہ دیشی خاتون‘ جوڑے کو بتائے بغیر ایک گاہک کے ساتھ چلی گئی جس کے نتیجہ میں ان دونوں میں لڑائی ہوگئی۔

 پولیس تحقیقات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 27 سالہ شیخ ثانیہ جس کی والدہ بنگلہ دیشی ہیں اور اس کے والد ہندوستان میں رہتے ہیں‘ ثانیہ کے کولکتہ میں بہت سارے لوگوں سے روابط ہیں۔

 اس خاتون نے 24 سالہ ایک شخص محمد سلمان کے ساتھ محبت کی شادی کی جو ایک گارمنٹ شاپ میں بطور ورکر کام کرتا تھا۔ اب یہ جوڑا‘ یہاں چندرائن گٹہ میں مقیم ہے۔

ثانیہ نے پولیس کو بتایا کہ ایک چاٹنگ ایپ جسے بنگلہ دیشی و برما کے افراد استعمال کرتے ہیں‘ کے ذریعہ بنگلہ دیشی خاتون 22 سالہ اختر (گرفتار شدہ خاتون) کے ربط میں آگئی۔ ہم دونوں دوست بن گئے۔

 بنگلہ دیشی خاتون نے مجھ (ثانیہ) سے پوچھا کہ وہ حیدرآباد میں کتنا کمالیتی ہیں؟ جس پر ثانیہ نے اسے بتایا کہ گھروں میں کام کرنے پر اسے ماہانہ 10 ہزار روپے ملتے ہیں اور جسم فروشی کے ذریعہ اسے 20 ہزار روپے مل جاتے ہیں۔ یہ سنتے ہی بنگلہ دیشی خاتون نے کہا کہ وہ پیسہ کے لئے کونسا بھی کام کرنے کے لئے تیار ہے۔

 بنگلہ دیشی خاتون غیر قانونی طریقہ سے سرحد عبور کی اور ہندوستان میں داخل ہوئی اور کولکتہ پہونچی جہاں وہ سکندرآباد کی ٹرین میں سوار ہوگئی۔ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پہونچنے کے بعد ثانیہ اور اس کے شوہر اسے (خاتون) چندرائن گٹہ لے آئے اور اپنے مکان میں پناہ دی تب سے یہ جوڑا اس خاتون کو جسم فروشی کیلئے استعمال کرتا آرہا ہے۔

ثانیہ، اس خاتون کو گاہک کے پاس چھوڑ تی اور پھر واپس اپنے ساتھ گھر لے آتی تھی۔ 9فروری کو جب ثانیہ، پڑوسی کے گھر گئی ہوئی تھی جب بنگلہ دیشی خاتون نے ثانیہ کے فون پر ایک کال وصول کیا۔ فون پر ایک گاہک، عطا پور آنے کیلئے کہہ رہا تھا یہ سنتے ہی بنگلہ دیشی خاتون آٹو کے ذریعہ عطا پور روانہ ہوگئی۔

 دریں اثنا ثانیہ، گھر لوٹی تو دیکھا کہ اختر گھر میں نہیں تھی اُس نے اختر کو تلاش کیا آخر کار اس نے اپنا فون دیکھا جس میں موصولہ آخری ایک کال کے نمبر پر دوبارہ فون کیا۔ فون پر اُس شخص نے بتایا کہ اختر، عطا پور پہونچ چکی ہے۔ یہ جوڑا (ثانیہ اور اس کا شوہر) عطا پور پہونچا اور اختر کے ساتھ جوڑے نے بحث و تکرار کی۔

اس دوران بنگلہ دیشی خاتون نے ثانیہ کے ہاتھ سے سل فون چھین لیا اور 100 ڈائل کرتے ہوئے پولیس کو مطلع کیا۔ تفتیش پر پتہ چلا کہ اختر کا شوہر اور اس کے دوبچے، بنگلہ دیش میں رہتے ہیں۔ پولیس نے تینوں کے خلاف کیس درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا۔