بیرونِ ملک ووٹرز کیلئے بڑی خبر!
اگر میرے بھائی شخصی طور پر حاضر نہیں ہوتے ہیں تو ان کی وضاحت کو قبول یا تسلیم نہ کرنے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بی ایل او کا کہنا ہے کہ میرے بھائی کو شخصی طور پر حاضر ہونا پڑے گا۔
سوال: میرے بھائی سعودی عرب میں رہتے ہیں اور میں نے ان کی غیر موجودگی میں ان کا اینومریشن فارم بحیثیت بھائی دستخط کرتے ہوئے بی ایل او کو پیش کیا تھا۔ اب Anomaly کے تحت نوٹس آئی ہے۔ بی ایل او کا کہنا ہے کہ شخصی طور پر میرے بھائی کو ہی حاضر ہونا پڑے گا چونکہ اینومریشن فارم میں نے داخل کیا تھا تاہم اب وضاحت یا جواب داخل کرنے کے لئے میرے بھائی کو ہی شخصی طور پر حاضر ہونا پڑے گا۔
ای آر او کےسامنے میرے بھائی کو حاضر ہونے کے لئے کہا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جو بھی جواب یا وضاحت ہے۔ اس وضاحت کو اسی وقت قبول کیا جائے گا جب میرے بھائی شخصی طور پر حاضر ہوں گے۔
اگر میرے بھائی شخصی طور پر حاضر نہیں ہوتے ہیں تو ان کی وضاحت کو قبول یا تسلیم نہ کرنے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بی ایل او کا کہنا ہے کہ میرے بھائی کو شخصی طور پر حاضر ہونا پڑے گا۔ کیا میرے بھائی کا شخصی طور پر حاضر ہونا ضروری ہے یا ایس آئی آر کے عمل میں کوئی قانونی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔
جواب: ایس آئی آر کے تعلق سے جس وقت نوٹسیں جاری کرنے کی بات کی گئی تھی۔ اس وقت تو چیف الیکٹورل آفس کی طرف سے یہی کہا جا رہا تھا کہ نوٹس کی اجرائی پر شخصی طور پر حاضر ہونا پڑے گا اور جواب داخل کرنا پڑے گا۔ نوٹس میں بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ شخصی طور پر حاضر ہونا چاہئے اور ای آر او کے روبرو دستاویزات پیش کرنا چاہئے تاہم بعد میں ریاست تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر سی سدرشن ریڈی نے ایک آفس میمو 27 اگست 2026 کو جاری کیا۔
اس آفس میمو میں باضابطہ طورپر یہ کہا گیا ہے کہ اگر کسی کو Anomaly نوٹس موصول ہوئی ہے‘ اگر وہ فرد شخصی طور پر حاضر نہیں ہو سکتاہے ۔ شخصی طور پر جواب داخل نہیں کر سکتا ہے تو وہ کسی اور یعنی کہ اپنے افراد خاندان میں سے کسی کو اتھارائزیشن دے سکتا ہے اور اس اتھارائزیشن کی بنیاد پر کوئی بھی فیملی ممبر اس کی طرف سے حاضر ہو سکتا ہے۔
اس سلسلہ میں صرف فیملی ممبر کو ہی یہ اختیار حاصل رہے گا۔ نہ صرف بیرون ملک میں مقیم افراد بلکہ سینئر سٹیزن، فزیکلی ہینڈی کیاپ یا معذور اور بیمار افراد کےلئے بھی یہ گنجائش اب تلنگانہ میں چیف الیکٹورل آفیسر کی طرف سے فراہم کی گئی ہے۔
مذکورہ بالا میمو کی اجرائی کے بعد اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ جو لوگ بیرون ممالک میں مقیم ہیں اور ایسے افراد جو کسی مجبوری کی وجہ سے شخصی طور پر ای آر او کے سامنے حاضر نہیں ہو سکتے ہیں ۔ وہ اپنے کسی فیملی ممبر کو اتھارائزیشن دے سکتے ہیں۔ انہیں شخصی حاضری سے استثنیٰ دیا گیا ہے اور ان کی فیملی کا ممبر باضابطہ طور پر ای آر او کے سامنے ان کی طرف سے وضاحت پیش کر سکتا ہے۔ اور ان کی طرف سے جواب داخل کر سکتا ہے۔
۰۰۰٭٭٭۰۰۰