ڈرافٹ میں نام ہے تو کیا ووٹ پکا ہے؟ حقیقت جان کر چونک جائیں گے!
ڈرافٹ رول میں نام آجانا اس بات کی طمانیت یا گیارنٹی نہیں ہے کہ فائنل ووٹر لسٹ میں بھی آپ کا نام آجائے گا۔ واضح رہے کہ جن افراد نے بھی اینومریشن فارمس داخل کئے ہیں۔ ان تمام افراد کے نام ڈرافٹ رول میں شامل کئے گئے ہیں۔
سوال: کیا ایس آئی آر کے تحت ڈرافٹ رول میں نام آجانا اس بات کی گیارنٹی یا ضمانت ہے کہ قطعی یا فائنل ووٹر لسٹ میں بھی نام آجائے گا۔ کیا ہم کو اس تعلق سے مطمئن ہو جانا چاہئے۔ ایسے ووٹرس جن کا نام ڈرافٹ رول میں آگیا ہے۔
کیا اب ان کا نام کسی بھی اعتبار سے فائنل ووٹر لسٹ سے خارج نہیں کیا جائے گا۔ اگر ڈرافٹ رول میں نام آگیا ہے تو پھر آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا نام کسی بھی طرح سے فائنل ووٹر لسٹ میں بھی آجائے گا۔ اس بات میں کہاں تک سچائی ہے۔ اس سلسلہ میں وضاحت کریں تو بڑی مہربانی ہوگی۔
جواب: ڈرافٹ رول میں نام آجانا اس بات کی طمانیت یا گیارنٹی نہیں ہے کہ فائنل ووٹر لسٹ میں بھی آپ کا نام آجائے گا۔ واضح رہے کہ جن افراد نے بھی اینومریشن فارمس داخل کئے ہیں۔ ان تمام افراد کے نام ڈرافٹ رول میں شامل کئے گئے ہیں۔ چاہے بی ایل او کے ذریعہ آف لائن اینومریشن فارمس داخل کئے گئے ہوں یا آن لائن فارمس کا ادخال عمل میں آیا ہو۔
اینومریشن فارمس داخل کرنے والے تمام افراد کا نام ڈرافٹ رول میں شامل کیا گیا ہے۔ ریاست تلنگانہ کی بات کی جائے تو یہاں ڈرافٹ رول میں دو کروڑ 64 لاکھ 87ہزار213 ووٹرس کو شامل کیا گیا ہے اور ان ووٹرس میں 92 لاکھ 87 ہزار 577 ایسے ووٹرس کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے جانچ کی جائے گی. جن کے ادعاجات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا اور ان افراد کو نوٹسیں دی جائیں گی۔
نوٹسوں کی اجرائی کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ ان زائد از 92 لاکھ ووٹرس جن کا نام ڈرافٹ رول میں موجود ہے۔ ان میں ان میاپڈ ووٹرس بھی موجود ہیں۔ ان میاپڈ ووٹرس یعنی ایسے ووٹرس جن کا 2002 کی ایس آئی آر فہرست سے لنک نہیں ہوا ہے۔ کسی بھی رشتہ دار سے لنک یا میاپنگ نہیں ہوسکی ہے اورسیلف لنکنگ یا میاپنگ بھی نہیں ہوسکی ہے۔ سیلف میاپنگ بھی نہیں ہوئی اور پروجینی میاپنگ یا لنکنگ بھی نہیں ہوئی ہے ۔
ایسے افراد نے صرف موجودہ ووٹر لسٹ کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے اینومریشن فارمس کو بی ایل او کے حوالے کیا ہے۔ ایسے زمرہ میں ووٹرس کی تعداد 32 لاکھ 36 ہزار 659 ہے اور یہ ان میاپڈ زمرہ ہے۔ ان میاپڈ کیٹگری کے ساتھ ساتھ ایک اور زمرہ ہے جو Anomaly اور لیگل ڈسکریپینسی سے متعلق ہے۔ ایسے ووٹرس کی تعداد 60 لاکھ 50 ہزار980 ہے۔ یعنی کہ ایسے ووٹرس کے ناموں میں غلطیاں ہیں۔ عمر میں فرق پایا جاتا ہے۔
اب ڈرافٹ رول شائع ہونے کے بعد جتنے بھی مشکوک ووٹرس ہیں۔ چاہے ان میاپڈ ہوں یا Anomaly کے دائرے میں آتے ہوں۔ ان کی جانچ ہوگی۔ ان تمام افراد کو 15 اکتوبر سے قبل اپنے دستاویزات داخل کرنا ہوگا۔جو بھی ادعاجات ہیں۔ وہ کر سکتے ہیں۔ اعتراضات بھی کئے جاسکتے ہیں۔ اگر کوئی اینومریشن فارمس داخل نہیں کئے ہیں اور جن کا نام ڈرافٹ رول میں نہیں آیا ہے۔ وہ بھی ووٹر لسٹ میں اپنے نام کی شمولیت کے لئے فارم 6 داخل کر سکتے ہیں اور دوبارہ ووٹر بننے کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ اگر کوئی رائےدہندے منتقل ہوئے ہیں۔ ایک اسمبلی حلقہ سے دوسرے اسمبلی حلقہ کو شفٹنگ یا منتقلی عمل میں آئی ہے۔ ایک پولنگ بوتھ سے دوسرے پولنگ بوتھ کو منتقلی ہوئی ہے۔ پتہ کی تبدیلی کا معاملہ ہے یا پھر کسی ایک ووٹر کا ایک سے زیادہ مقامات پر نام یا ووٹ ہے اور زائد ووٹ کو ڈیلیٹ یا حذف کرنے کے لئے بھی درخواست داخل کی جاسکتی ہے۔ مختلف امور کی انجام دہی کے لئے فارم 6، فارم 6 اے، فارم 7، فارم 7 اے، فارم 8 داخل کئے جاسکتے ہیں۔
یہ تمام عمل 15 اکتوبر تک مکمل کیا جانا چاہئے جبکہ 19 اکتوبر کو فائنل یا قطعی فہرست رائے دہندگان کی اجرائی عمل میں آئے گی لہذا عوام کو گھبرانے یا تشویش میں مبتلا ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ جن کسی کو بھی نوٹس آئی ہے۔ نوٹس میں آپ کو وجہ بتائی جائے گی۔ کس وجہ سے آپ کو نوٹس دی گئی ہے۔ یہ بھی بتایا جائے گا کہ آپ کو کیا ڈاکیومنٹ پیش کرنا ہے۔ نوٹس میں دی گئی تفصیلات کے مطابق آپ ای آر او یا اے ای آر او سے رجوع ہوں۔ آپ کو سماعت کے لئے کب طلب کیا گیا ہے۔
کس تاریخ کو طلب کیا گیا ہے۔ کس وقت طلب کیا گیا ہے۔ آپ بالکل وقت پر عہدہ دار کے سامنے حاضر ہوں اور اپنے جو بھی صحیح دستاویزات ہیں۔ وہ دستاویزات پیش کریں اور قطعی فہرست رائے دہندگان میں اپنے نام کی برقراری کو یقینی بنائیں۔ آپ ووٹ کے تعلق سے اپنی دعویداری کو مضبوط طریقے سے پیش کر سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں خوفزدہ ہونے یا الجھن میں مبتلا ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کے پاس جو بھی دستاویزات ہیں۔ وہ دستاویزات کی پیشکشی کے ذریعہ آپ فائنل لسٹ میں اپنے نام کی برقراری کے لئے مساعی کرسکتے ہیں۔