تلنگانہ میں بجلی صارفین کو بڑا جھٹکا، نومبر سے بلوں میں فی یونٹ اضافی چارج
تلنگانہ میں بجلی صارفین کے ماہانہ بلوں میں نومبر سے اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ تلنگانہ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (ERC) نے ریاست کی دو بجلی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOMs) کو 5,420.23 کروڑ روپے کی رقم صارفین سے ٹرو اَپ (True-Up) کے تحت وصول کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں بجلی صارفین کے ماہانہ بلوں میں نومبر سے اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ تلنگانہ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (ERC) نے ریاست کی دو بجلی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOMs) کو 5,420.23 کروڑ روپے کی رقم صارفین سے ٹرو اَپ (True-Up) کے تحت وصول کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
ای آر سی کے احکامات کے مطابق نومبر کے مہینے میں بجلی صارفین سے 30 پیسے فی یونٹ اضافی وصول کیے جائیں گے، جبکہ اس کے بعد اضافی چارج بڑھ کر 50 پیسے فی یونٹ ہوجائے گا۔
یہ اضافی رقم ریاست کی دو ڈسکام کمپنیوں، تلنگانہ سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ (TGSPDCL) اور تلنگانہ نادرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ (TGNPDCL) کے ذریعے وصول کی جائے گی۔
احکامات کے مطابق ٹی جی ایس پی ڈی سی ایل کو منظور شدہ رقم کی وصولی کے لیے 29 ماہ کی مدت دی گئی ہے، جبکہ ٹی جی این پی ڈی سی ایل کو یہ رقم 26 ماہ کے دوران صارفین سے وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
دونوں ڈسکام کمپنیوں نے ٹرو اَپ کے تحت اضافی رقم وصول کرنے کی اجازت کے لیے ای آر سی سے رجوع کیا تھا۔ ان کمپنیوں نے 10 نومبر 2025 کو کمیشن سے درخواست کرتے ہوئے اضافی وصولی کی اجازت مانگی تھی۔
ٹرو اَپ میکانزم کے ذریعے بجلی کی اصل خریداری اور دیگر متعلقہ اخراجات کو سابقہ طور پر منظور شدہ ٹیرف کے ساتھ ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ ای آر سی کی جانب سے منظوری کے بعد یہ رقم صارفین کے بجلی بلوں میں فی یونٹ اضافی چارج کے طور پر وصول کی جائے گی۔
نومبر سے اضافی چارج لاگو ہونے کے بعد صارفین کے ماہانہ بجلی بلوں میں ان کے استعمال کے مطابق اضافہ ہوگا۔ گھریلو، تجارتی اور دیگر زمروں کے صارفین پر اس اضافی وصولی کا اثر ان کے بجلی کے استعمال کے حساب سے مختلف ہوگا۔
بجلی کے بلوں میں اضافی رقم کی وصولی سے صارفین پر مالی بوجھ بڑھنے کا امکان ہے۔ اس فیصلے کے بعد صارفین اور مختلف تنظیموں کی جانب سے بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر تشویش کا اظہار کیے جانے کی توقع ہے۔
ای آر سی کے احکامات کے تحت منظور شدہ 5,420.23 کروڑ روپے کی رقم مقررہ مدت کے دوران فی یونٹ اضافی چارج کے ذریعے وصول کی جائے گی۔