حیدرآباد میں بائیو ایشیا 2026 کامنگل سے آغاز۔ وزیراعلی اور وزیرآئی ٹی افتتاح کریں گے
یہ باوقار عالمی کانفرنس کل 17 فروری سے حیدرآباد انٹرنیشنل کنونشن سنٹر (ایچ آئی سی سی) میں شروع ہوگی جو 18 فروری تک جاری رہے گی۔ لائف سائنسس اور ہیلت کیئر کے شعبہ پر مرکوز اس عالمی سمٹ کا افتتاح تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور وزیر صنعت و آئی ٹی سریدھر بابو مشترکہ طور پر کریں گے۔
حیدرآباد: تلنگانہ کو عالمی ٹیک۔بائیو شعبہ میں ایک طاقتور مرکز کے طور پر متعارف کروانے کے لئے حکومت نے دو روزہ بائیو ایشیا 2026 کانفرنس کے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔
یہ باوقار عالمی کانفرنس کل 17 فروری سے حیدرآباد انٹرنیشنل کنونشن سنٹر (ایچ آئی سی سی) میں شروع ہوگی جو 18 فروری تک جاری رہے گی۔ لائف سائنسس اور ہیلت کیئر کے شعبہ پر مرکوز اس عالمی سمٹ کا افتتاح تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور وزیر صنعت و آئی ٹی سریدھر بابو مشترکہ طور پر کریں گے۔
اس سال کانفرنس کا موضوع ”ٹیک بائیو انلیشڈ: اے آئی اور آٹومیشن۔ بائیولوجی کا انقلاب“رکھا گیا ہے۔ اس دو روزہ ایونٹ میں دنیا کے تقریباً 50 ممالک سے 3,000 سے زائد مندوبین شرکت کر رہے ہیں جو اسے دنیا کی سب سے بڑی لائف سائنسس اور ہیلت کیئر کانفرنسوں میں سے ایک بناتا ہے۔
کانفرنس کا بنیادی مقصد ہیلت کیئر اور لائف سائنسس کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے اثرات، جدید سائنسی ایجادات اور عالمی بائیو اکانومی کو مضبوط بنانے جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
کانفرنس میں عالمی سطح کی نامور کمپنیوں اور ملٹینی بائیوٹیک کے سی ای اوز اور ماہرین کلیدی خطابات کریں گے۔ مقررین میں یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے کینسر جین تھراپی کے ماہر پروفیسر بروس ایل لیون، امجن کے ڈاکٹر ہوورڈ وائی چانگ اور سانوفی کی ای وی پی میڈلین روچ جیسے عالمی شہرت یافتہ نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی وزراء پیوش گوئل اور اشونی ویشنو کی شرکت بھی متوقع ہے۔
تلنگانہ حکومت اس پلیٹ فارم کے ذریعہ ریاست کو طبی تحقیق، بائیوٹکنالوجی اور فارماسیوٹیکل کے شعبہ میں ایک عالمی سرمایہ کاری کے مرکزکے طور پر پیش کر رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بائیو ایشیا 2026 لائف سائنس کے میدان میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی جس سے نہ صرف جدید ٹکنالوجی کے تبادلے میں مدد ملے گی بلکہ ریاست میں روزگار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔