تلنگانہ

انحراف کرنے والے ارکان کے لئے بی آر ایس کے دروازے بند: کے ٹی آر

تلنگانہ کی اصل اپوزیشن بی آرایس کے کارگزارصدرتارک راما راو نے کہا ہے کہ پارٹی انحراف کرنے والوں کے لئے بی آرایس کے دروازے بند ہیں۔انہوں نے اسمبلی کے اجلاس کے پہلے دن میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے پارٹی چھوڑ کر جانے والے ارکانِ اسمبلی اور موجودہ سیاسی صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کی اصل اپوزیشن بی آرایس کے کارگزارصدرتارک راما راو نے کہا ہے کہ پارٹی انحراف کرنے والوں کے لئے بی آرایس کے دروازے بند ہیں۔انہوں نے اسمبلی کے اجلاس کے پہلے دن میڈیا سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے پارٹی چھوڑ کر جانے والے ارکانِ اسمبلی اور موجودہ سیاسی صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
سوشل میڈیا پوسٹ، کے ٹی آر کے خلاف 2کیس درج
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
جعلی ایچ ٹی کپاس کے بیجوں کا بڑا بھانڈا، 10 ٹن بیج ضبط، دو ملزمان گرفتار


کے ٹی آر نے واضح کیا کہ جن ارکان اسمبلی نے پارٹی بدلی ہے وہ اب کہیں کے نہیں رہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہاکہ پارٹی بدلنے والے ارکان کے لئے بی آر ایس کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہو چکے ہیں۔ان ارکان کی جگہ اب نئے اور وفادار چہروں کو موقع دیا جائے گا۔یہ ارکان اب اتنے بے بس ہیں کہ وہ یہ بھی بتانے سے قاصر ہیں کہ وہ کس پارٹی میں ہیں۔


کے ٹی آر نے دعویٰ کیا کہ زمینی سطح پر بی آر ایس کی پکڑ اب بھی بہت مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سرپنچ انتخابات کے نتائج میں 80 فیصد کامیابی بی آر ایس کے حامیوں کو ملی ہے جس سے کانگریس پارٹی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ اسی ڈر کی وجہ سے حکومت بلدیات کے انتخابات کروانے سے گریز کر رہی ہے۔


انہوں نے کہاکہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ بلدیات کے انتخابات کے وقت میں باہر نہ رہوں۔ مجھے گرفتار کرنے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن میں واضح کر دوں کہ میں ان دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں ہوں۔ اگر میں جیل کے اندر بھی رہا تب بھی میری پارٹی پوری قوت سے مقابلہ کرے گی۔


کے ٹی آر کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے خاص طور پر ان کا یہ کہنا کہ وہ گرفتاری سے نہیں ڈرتے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی کا عکاس ہے۔