بین الاقوامی

برطانیہ، آسڑیلیا، کینیڈا اور اسپین نے اسرائیلی آباد کاریوں کی سخت مخالفت کردی

بیان میں دہشت گردی اور شہریوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد کی "بالکل مذمت" کی گئی ہے اور حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ تشدد کے تمام مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرائیں۔

لندن: برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی حکومتوں نے کہا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں 5,700 نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دے کر غیر قانونی یہودی بستیوں کو توسیع دینے کے اسرائیل کے فیصلے پر "شدید تشویش” رکھتی ہیں۔

متعلقہ خبریں
آسٹریلوی حکومت نازی علامتوں پر پابندی عائد کرے گی
کینیڈا کا اسٹڈی پرمٹ اپلیکیشن سے متعلق اہم فیصلہ
کینڈا میں مقیم ببرخالصہ کارکن دہشت گرد قرار
پنون کیس، امریکہ کے الزامات پر ہندوستان کا سخت ردعمل
انوشکا نے ویراٹ کو گلے لگایا۔ تصویر وائرل

برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کی وزارت خارجہ کے مشترکہ بیان میں تل ابیب کی انتظامیہ سے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا گیا۔

بیان میں، اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ آباد کاری میں مسلسل توسیع امن کی راہ میں رکاوٹ ہے اور "دو ریاستی حل” کے اقدامات کی کامیابی کو منفی طور پر متاثر کرتی ہے۔

بیان میں دہشت گردی اور شہریوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد کی "بالکل مذمت” کی گئی ہے اور حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ تشدد کے تمام مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرائیں۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ "اسرائیل اور مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات کا سد باب کرنا لازمی ہے۔ آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ اسرائیل اور فلسطینی عوام کے امن اور سلامتی کے ساتھ، وقار، بے خوفی اور انسانی حقوق کے مکمل احترام کے ساتھ رہنے کے حق میں مضبوطی سے کھڑے ہیں۔”

یہ بتاتے ہوئے کہ خطے میں جامع، منصفانہ اور پائیدار امن بشمول اسرائیل کے شانہ بشانہ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھی جائے گی، اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ چیز فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتی ہے۔

دریں اثنا ہسپانوی حکومت نے بھی اسرائیل کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نئی بستیوں کی تعمیرات کو مسترد کر دیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ” حکومتِ اسپین دریائے اردن کے مغربی کنارے پر فلسطینی سر زمین میں اسرائیلی آباد کاریوں کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتی ہے اور یہ وہاں کے فلسطینی مکینوں پر مظالم کی شدید مذمت کرتی ہے۔ "بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں بین الاقوامی قوانین کے منافی تعمیرات کی ہیں۔ جو کہ دو ریاستی حل کے عمل کو مشکلات سے دو چار کر رہی ہیں۔